خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 829
خطبات ناصر جلد دہم ۸۲۹ خطبہ نکاح ۹ /نومبر ۱۹۸۰ء امتہ الباسط سے پوچھا انہوں نے کہا ٹھیک ہے آپ نے جو کیا وہ ٹھیک کیا۔پھر دونوں سے تحریر لی۔ان کی جو پہلی تحریر تھی ان کے نیچے ان کی والدہ کی تحریر لکھوائی میں نے کہ اللہ تعالی اس رشتہ کو مبارک کرے اور اسی خط پر میں نے پیغام بھجوا دیا اپنی طرف سے یعنی ایک ہی خط میں تین خط چلے گئے۔یہ اس واسطے بتا رہا ہوں کہ ان معاملوں میں احتیاط بھی برتنی چاہیے۔ہر شخص کا ہر حصے دار کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔تو مجھے بطور ولی اور وکیل ہیں ہزار روپیہ مہر پر عزیز بچے سید قمر سلیمان احمد صاحب کا نکاح ( میں ہزار میں کہہ چکا ہوں ) مکرمہ امۃ الکبیر صاحبہ بنت مکرم بر یگیڈ ئیر محمد وقیع الزماں خاں صاحب سے منظور ہے۔آپ گواہ رہیں۔۲۔دوسرا نکاح ہے عزیزہ مکرمہ امتہ الواسع ندرت صاحبہ بنت مکرم سید میر داؤ د احمد صاحب ساکن ربوہ کا عزیزم مکرم مرزا مظفر احمد صاحب ابن مکرم محترم مرزا منور احمد صاحب ساکن ربوہ سے دس ہزار روپیہ مہر پر لڑ کی کی طرف سے میں وکیل بھی ہوں۔اس واسطے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے اور ندرت کو اور ان کی والدہ امتہ الباسط صاحبہ کو یہ نکاح دس ہزار روپیہ مہر پر عزیزم مکرم مرزا مظفر احمد صاحب سے منظور ہے۔۳۔عزیزہ مکرمہ فائزہ طاہر صاحبہ بنت مکرم محترم مرزا طاہر احمد صاحب ربوہ کا نکاح عزیزم مکرم مرز القمان احمد صاحب جو میرے بچے ہیں ان سے نو ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دوست دُعا کر لیں۔اللہ تعالیٰ رشتوں کو مبارک کرے۔پھر حضور انور نے حاضرین سمیت ہاتھ اُٹھا کر دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۵ جنوری ۱۹۸۱ ء صفحه ۲)