خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 828 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 828

خطبات ناصر جلد دہم ۸۲۸ خطبہ نکاح ۹ نومبر ۱۹۸۰ء بھاری اکثریت نے پناہ لینی تھی اور اس صدی نے ان بنیادوں پر اس قلعہ کو تعمیر کرنا ہے اللہ کے فضل سے انشاء اللہ۔ہم بھی اس قلعہ کی تعمیر میں مزدور کا کام کرتے ہیں اور کریں گے انشاء اللہ۔اور خدا آنے والی نسلوں کو بھی یہ توفیق دے کہ وہ اس بات پر فخر کریں کہ خدا تعالیٰ کے قلعہ کے مزدور بنیں۔دُنیا کی بادشاہتیں ان کی نظر میں کوئی حیثیت نہ رکھتی ہوں۔اس وقت جو نکاح ہیں جن کا میں اعلان کروں گا ان کے لئے آپ دُعا بھی بہت کریں دوشادیاں ایسی ہیں جن کا تعلق ہر دو طرف سے حضرت مصلح موعود کے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند کرے اور زمین کی جو خوشیاں روحانی اور دینی اور اخلاقی ہمیں پہنچ رہی ہیں ان میں بہتر رنگ میں اچھے طریق پر اللہ تعالیٰ جانے والوں کو بھی شامل کرے۔آمین۔ا۔عزیزہ مکرمہ امتہ الکبیر کمیٹی صاحبہ بنت مکرم محترم بریگیڈئیر محمد وقیع الزماں خاں صاحب ساکن لاہور چھاؤنی کا نکاح عزیزم مکرم سید قمر سلیمان احمد صاحب ابن مکرم سید میر داؤ د احمد صاحب مرحوم ساکن ربوہ سے ہیں ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔کیٹی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی نواسی ہیں اور سید قمر سلیمان حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا کے بھائی کی اولاد میں سے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس رشتے کو دیگر رشتوں کی طرح بہت مبارک کرے۔لڑکی کے ولی ان کے والد مکرم بر یگیڈ ئیرمحمد وقیع الزماں خاں صاحب یہاں موجود ہیں۔سید قمر سلیمان احمد صاحب کی طرف سے ایک لحاظ سے میں ولی بھی ہوں اور ان کا وکیل بھی ہوں۔انھوں نے تحریراً مجھے خط لکھا تھا کہ آپ میری طرف سے نکاح کر دیں۔قصہ یہ ہے کہ بہت اچھا بچہ ہے۔میں نے لنڈن سے ان کو خط لکھا کہ میرے ذہن میں ایک رشتہ ہے آپ کے لئے۔یہ نہیں بتایا کہ کون سا تو کیا اس بات پر راضی ہو کہ جس لڑکی سے میں چاہوں تمہارا رشتہ کر دوں؟ ان کا خط آگیا کہ ہاں ! جہاں چاہیں کر دیں۔اس کے بعد ہمارا دورہ نائیجیر یا اور غانا کا ہوا۔نائیجیریا میں یہ خود کام کر رہے ہیں جماعت کے سکولوں میں اور وہاں اس سے پھر میں نے بات کی۔میں نے یہ رشتہ بتایا اور کہا کہ یہ رشتہ ہے میرے ذہن میں۔انھوں نے کہا ٹھیک ہے اور پھر میرے ساتھ ہی رہے غانا میں بھی آگئے تھے۔پھر میں نے یہاں آ کے اپنی ہمشیرہ