خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 780 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 780

خطبات ناصر جلد دہم ۷۸۰ خطبہ نکاح ۲۰ مارچ ۱۹۷۸ء ضلع تھر پارکر سے۔۔محترمہ حفیظہ خانم صاحبہ بنت مکرم محترم امداد خان صاحب ساکن سروکوٹ ضلع سیالکوٹ کا نکاح تین ہزار روپیہ مہر پر مکرم ظہیر الدین ناصر صاحب ابن مکرم محترم چوہدری لاب دین صاحب ساکن چک نمبر ۱۶۶ مراد ضلع بہاولنگر سے۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ صرف مرد کے حقوق ہیں اور اس پر کوئی ذمہ واری نہیں یا صرف عورت کے حقوق ہیں اور اس پر کوئی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تعلیم دی ہے کہ مرد کے بھی حقوق ہیں اور عورت کے بھی حقوق ہیں اور مرد پر بھی خدا تعالیٰ کی قائم کردہ ذمہ داریاں ہیں اور عورت پر بھی خدا تعالیٰ کی قائم کردہ ذمہ واریاں ہیں اور خوشحال معاشرہ تبھی قائم ہو سکتا ہے، وہ معاشرہ جس کو ہم ہو اسلامی معاشرہ کہہ سکتے ہیں کہ جب مرد بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور عورت بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور پھر ذمہ واریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے حقوق کی نگہداشت بھی کریں۔ازدواجی رشتے کی مثال مادی دنیا میں ایک ایسے پیوند کی ہے جس کے پھولوں میں نر اور مادہ اکٹھے ہوتے ہیں۔عورت کی ذمہ واریوں سے مرد کے حقوق کی شاخیں نشو و نما پاتی ہیں اور عورت کے حقوق کی شاخیں مرد کی ذمہ واریوں سے نشو و نما حاصل کرتی ہیں۔ازدواجی رشتے کے بعد ایک ہی خاندان بن جاتا ہے اور جیسے کہ میں نے بتایا ہے اس کی مثال درخت کے پیوند کی ہے جس کی ایک ہی ٹہنی کے ایک پھول میں رکھی ہے اور مادہ بھی یعنی مرد بھی ہے اور عورت بھی ہے اور وہ ان ریشوں کے ذریعہ سے جو ٹہنی میں چلتے ہیں اور پیوند میں سے ہوکر جڑوں تک جاتے ہیں اپنی نشوونما کے سامان پیدا کرتے ہیں۔ہم مردوزن جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں ہم دنیا میں ایک حسین اور خوشحال اسلامی معاشرہ قائم کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔پس ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبہ کو اسلامی نور سے منور کرتے ہوئے اس میں اسلام کا حسن پیدا کریں اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بنیں اور ہم میں سے ہر مرد اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے والا ہو اور ہم میں سے ہر عورت اپنے خاوند کے حقوق ادا کرنے والی ہو اور باہم مل کر ایک