خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 613
خطبات ناصر جلد دہم ۶۱۳ خطبہ نکاح ۲۵ ؍دسمبر ۱۹۷۲ء کوشش کریں کہ آپ کے گھر اسلام کے نور سے ہمیشہ منور رہیں خطبہ نکاح فرموده ۲۵ / دسمبر ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر از راہ شفقت علالت طبع کے باوجود مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱- محترمہ امتة النصیر صاحبہ بنت مکرم پیر صلاح الدین صاحب اسلام آباد کا نکاح محترم پیر محمد طیب صاحب ابن مکرم پیر محمد اقبال صاحب شجاع آباد (ملتان) سے دس ہزار روپے حق مہر پر۔-۲- محترمه منصورہ بیگم صاحبہ بنت مکرم اشرف احمد خان صاحب لاہور کا نکاح محترم چوہدری محمد الیاس صاحب (لہوکون۔انگلستان ) ابن مکرم چوہدری محمد یعقوب صاحب سے دس ہزار روپے حق مہر پیگر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ایک وعدہ تھا جسے پورا کرنے کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں۔کل مجھ پر انفلوئنزا کا بڑا سخت حملہ ہوا تھا جس کی وجہ سے مجھے یہ اندیشہ تھا کہ بخار شاید ۵، ۱۰۴ تک چلا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرما یا اور شروع میں ہی بیماری بظاہر پکڑی گئی ہے لیکن اس بیماری کی وجہ سے بخار کے علاوہ ناک بہنے کی تکلیف ہے۔سر بوجھل ہے۔آنکھوں، گلے اور سینے پر بھی اس کا اثر ہے۔