خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 583
خطبات ناصر جلد دہم ۵۸۳ خطبہ نکاح ۱۵ را پریل ۱۹۷۲ء قول سدید بہت سی بھلائیوں کا منبع اور سر چشمہ بنتا ہے خطبہ نکاح فرموده ۱۵ ۱٫ پریل ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر از راہ شفقت دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام میں عمل صالح اور قول سدید سے بڑھ کر عمل طبیب کی ہدایت کی گئی ہے۔قول سدید بہت سی بھلائیوں کا منبع اور سر چشمہ بنتا ہے۔بعض لوگ عادتا کج بات کرتے ہیں مگر اسلام ہمیں سچی بات کرنے کا حکم بھی نہیں دیتا بلکہ کہتا ہے کہ صرف سچی بات کہہ دینے پر اکتفا نہیں کرنا بلکہ ایسی سچی بات کرنی ہے جو صاف اور سیدھی ہو یعنی جس کے اندر کوئی کبھی یا رخنہ نہ ہو یا جس کے نتیجہ میں کوئی کبھی یارخنہ پیدا نہ ہوتا ہو یہ گویا قول سدید کا دوسرا پہلو ہے جس کی رو سے ایک بے تکلف ،صاف گو اور کھلی بات کرنے والا شخص اپنے ماحول میں پاکیزگی اور خوشحالی کے سامان پیدا کرتا ہے۔اجتماعی زندگی کی ابتدا چونکہ خاندان سے ہوتی ہے اور خاندان کی ابتدا میاں بیوی کے ازدواجی تعلق سے ہوتی ہے اس لئے نکاح کے موقع پر جو آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔ان میں میاں بیوی کو ایک حکم یہ دیا گیا (ویسے اس کا اطلاق آپس کے دوسرے تعلقات پر بھی ہوتا ہے ) کہ تم سدید قول سے اپنی ازدواجی زندگی کو شروع کرو۔اگر تم اس ہدایت پر قائم رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بھی