خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 31
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء حقیقی عید یا خوشی کا دوسرا بڑا ذریعہ استقامت ہے به عید الفطر فرموده ۱۲ / دسمبر ۱۹۶۹ ء بمقام مسجد مبارک ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ ( حم السجدة : ۳۲،۳۱) پھر حضور انور نے فرمایا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر قوم اور ہر جماعت نے اپنے لئے خوشیوں کے تہوار بنائے ہوئے ہیں اور ہماری عید کا دن تو یہ ہے جو رمضان کی عبادات کے بعد آتا ہے اسی طرح ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا کہ مدینہ میں مدینہ کے دونوں بڑے قبائل مختلف موقعوں کی یاد میں تہوار مناتے ہیں ان سے بہتر اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے انتظام کر دیا ہے ایک عید الفطر کا جس کو ہم چھوٹی عید کہتے ہیں اور ایک عید الاضحیہ کا۔انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ وقفہ وقفہ کے بعد خوشی منائے اور یہ فطرت میں اس لئے رکھا