خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 414
خطبات ناصر جلد دہم ۴۱۴ خطبہ نکاح ۴ جولائی ۱۹۶۸ء اور ابتلا اور امتحان اور بیماریاں اور دکھ اور درد جو اس زندگی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں وہ سب اڑ جائیں تو اس کل کی فکر کرنی چاہیے جس کے بعد پھر اور کل نہیں ہونا اگر مجموعی طور پر اخروی زندگی میں تو وہی ابتدا ہے اور اس کی کوئی انتہا نہیں۔وہ کل شروع تو ہوتا ہے لیکن اس کی کوئی انتہا نہیں تو اس کی فکر کریں۔بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں نئے رشتے قائم ہوتے وقت۔ہر دو خاندانوں پر ہر دو افراد پرلڑ کے پرلڑ کی پر۔بڑے دور رس نتائج نکلتے ہیں نکلتے رہتے ہیں تو اچھے نتائج پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اچھے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے جتنی بھی انسان قربانی دے سکے وہ قربانی دے دینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا بندہ بنائے رکھے کہ اس کا بندہ بنا مشکل اور بندہ بنے رہنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے عزیزوں اور پیاروں پر۔آپ چاروں کے خاندانوں پر نازل ہوتار ہے اور ہر احمدی پر اللہ تعالیٰ کا فضل اپنی پوری شان کے ساتھ نازل ہوتا رہے اور ہر وہ انسان جو خدا کے فضل کے لئے پیدا کیا گیا تھا مگر اس نے اپنے رب کو بھلا دیا اور اس کے فضل سے محروم ہو گیا اپنی غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں۔ایسے لوگوں کی غفلتوں اور کوتاہیوں کو بھی اللہ تعالیٰ دور کرے اور ان کے لئے اپنی رحمت کے سامان پیدا کر دے۔وہ اس کی معرفت کو حاصل کریں اس کو پہچاننے لگیں اس قابل ہو جا ئیں کہ ہمارا پیارا محبوب ان پر بھی اپنے پیار کی نگاہ ڈالے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )