خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 396 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 396

خطبات ناصر جلد دہم ۳۹۶ خطبہ نکاح ۲۳ / مارچ ۱۹۶۸ء نتیجہ میں اگر تم خدا کی باتیں مانو د نیا کے رسم و رواج نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں درجہ بدرجہ ترقی دے کر ان مقامات تک تمہیں لے جائے گا۔جن مقامات تک وہ تمہیں لے جانا چاہتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے فرمایا کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِلہ۔اگر تمہارے اپنے اہل کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے اچھا برتاؤ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی تم اچھے بنو گے اور جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم انسان کو ملتا ہے شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ انسان اس حکم پر عمل نہ کرے۔اس مقصد کو حاصل نہ کرے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسے حاصل ہو۔ان ترقیات تک نہ پہنچے جہاں اللہ تعالیٰ اسے پہنچانا چاہتا ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ ازدواجی تعلقات میں شیطانی رخنوں کا واقع ہو جانا بھی ممکن ہے۔اس لئے جب تمہیں اس قسم کی الجھنیں پیدا ہوں تو تم اِتَّقُوا رَبَّكُمُ اسی کو اپنی ڈھال بناؤ جس نے خود کو تمہارا رب بنایا ہے۔ربّ ہونے کی ذمہ داری اس پر ہے۔اگر تم اپنے خدا کو ، اپنے اللہ کو، اپنے رب کو ، اپنے خالق کو اپنی ڈھال بناؤ گے اور اس کے احکام کو توڑو گے نہیں۔اور گناہ سے اور معصیت سے اس لئے بچو گے کہ وہ تم سے راضی ہو جائے تو پھر تم شیطانی وسوسوں اور شیطانی رخنوں اور شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہارا خالق ہے وہ تمہارا رب ہے اور وہی جانتا ہے کہ تم کس قسم کی استعداد میں اور قو تیں رکھتے ہو اور تم کس حد تک بلندیوں کو حاصل کر سکتے ہو۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک موقع پر کہا اور اس کو قرآن کریم نے نقل کیا تا کہ ہمارے لئے وہ ہدایت کا موجب بنے اور وہ یہ کہ الَّذِي خَلَقَنِی فَهُوَ يَهْدِيْنِ (الشعر آء : ۷۹) اور اس میں یہ مضمون بیان کیا کہ خالق ہی بتا سکتا ہے کہ کتنی طاقت اور قوت کسی چیز میں ہے۔موٹی مثال اس کی ہے۔لاریاں چلتی ہیں ہر روز اس پر چڑھتے ہیں موٹریں ہیں موٹر بنانے والے نے اس پر لکھا ہوا ہے کہ اس سے زیادہ تیز رفتار سے یہ موٹر نہیں چلے گی اگر لکھا نہ ہو تو پھر نا واقف انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتنی تیز رفتار سے یہ موٹر چل سکتی ہے۔انسان کو جس نے پیدا کیا وہی بتا سکتا ہے کہ اس میں کیا کچھ رکھا گیا ہے اور کس طرح اس کو ترقی دی جاسکتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ اس رب سے ڈرو اور اس کی پناہ میں آ جاؤ اور اس کی خاطر دنیا کی رسوم و رواج کو چھوڑ دو جو تمہارا رب ہے۔تمہیں اپنا قرب عطا کرنا چاہتا ہے اور