خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 397 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 397

خطبات ناصر جلد دہم ۳۹۷ خطبہ نکاح ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء صرف وہی تمہیں ہدایت دے سکتا ہے کیونکہ وہ تمہارا خالق ہے اور سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا کہ انسان میں یا اس کی دوسری مخلوقات میں کیا کچھ استعدادیں رکھی گئی ہیں۔تو اگر ہم سارے مسلمان قرآن کریم کی بتائی ہوئی ہدایتوں پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ کے بڑے ہی فیوض اور اس کی بڑی ہی برکتوں کو ہم حاصل کر سکتے ہیں لیکن پیدا تو اس نے کیا اور علاج ہم کسی اور کا کروائیں۔علاج کا لفظ میں نے اس وقت بول دیا ہے۔ممکن ہے کسی کو شبہ پڑ جائے۔جتنے علاج ہیں وہ بھی اس نے پیدا کئے ہیں اگر ہم یہ کہیں کہ ہم اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جوا دو یہ پیدا کی ہیں ان سے اپنی بیماری کا علاج نہیں کریں گے بلکہ دوسرے ستاروں سے دوائیں لے کر آئیں گے۔تو جب تک ستاروں تک پہنچیں گے کہنے والے فنا ہو جائیں گے مر جائیں گے، ہلاک ہو جا ئیں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں پیدا کیا اور ہر جسمانی بیماری کا علاج بھی پیدا کر دیا۔بعض ایسی ادویہ ہیں جن کا انسان کو پتہ بھی نہیں لگا۔جس طرح آج سے سو سال پہلے بہت ساری ادویہ تھیں جن کا انسان کو پتہ نہیں تھا۔اس سو سال میں بہت سی نئی دوائیں اس نے معلوم کر لیں یہ نئی دریافتیں بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ پیدا کیا ہے لیکن ہماری ابھی پہنچ وہاں تک نہیں لیکن اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ ہمیں بتاتا چلا جاتا ہے اور ہمارے علم میں زیادتی کرتا چلا جاتا ہے۔جس طرح ہم اس کے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور اس کے کہنے کے مطابق کوشش اور تحقیق میں لگے رہتے ہیں۔تو جس طرح ہماری جسمانی بیماریوں اور کمزوریوں کا علاج بھی اس نے خود پیدا کیا۔اسی طرح اس نے ہماری اخلاقی اور ہماری روحانی ہدایتوں کا سامان بھی قرآن کریم نے پیدا کیا ہے۔قرآن کریم کو اگر ہم اپنے لئے ہدایت تسلیم کریں اور اس پر عمل کریں تو ہمارے ازدواجی تعلقات جو ہیں کبھی بھی ناخوشگوار نہیں ہو سکتے۔کیونکہ ہر انسان جو قرآن پر عمل کرتا ہے خوشی اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت جس نکاح کے اعلان کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ عزیزہ امتہ اللطیف صاحبہ جو