خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 394 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 394

خطبات ناصر جلد دہم ۳۹۴ خطبہ نکاح یکم مارچ ۱۹۶۸ء نے بھی منظور کر لیا ہے اور اس عزیزہ کی اور میری بہت سی تشویش اس طرح دور ہو گئی ہے۔دوسرا نکاح اس عزیزہ کا ہے جس کے والد ہمارے مبلغ ہیں انھوں نے اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کی ہوئی ہے اور ہر واقف جو دنیا کی تمام کششوں کے باوجود اپنے خدا کا ہو رہتا ہے اور اس کے باوجود خدا کے لئے زندگی گزارتا ہے بہر حال اپنے اندر خصوصیت رکھتا ہے۔تیسرا رشتہ اس بچی کا ہے۔جس کے والد بڑے لمبے عرصہ سے مشرقی افریقہ میں رہائش پذیر ہیں۔بڑے مخلص، تعلیم الاسلام ہائی سکول کے پڑھے ہوئے۔دو بھائیوں کے ساتھ تو میں بھی کلاس میں بیٹھا رہا ہوں جب میں نے میٹرک کا امتحان دینا تھا۔میں باقاعدہ داخل نہیں ہوا تھا لیکن انگریزی اور حساب کی کلاسز میں لیا کرتا تھا ( ہائی سکول میں )۔اس وقت دو بھائی پڑھا کرتے تھے۔جن میں سے ایک فوت ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے ڈھانکتا رہے۔ان عزیز کے والد خود بڑے مخلص ہیں اور بڑا کام کرنے والے ہیں۔مشرقی افریقہ میں اور آج کل جیسا کہ وہاں کے حالات ہیں، آپ جانتے ہی ہیں کافی مخدوش ہیں۔اس لئے ان کے لئے اور ان کی عزیزہ بچی کے لئے خاص دعاؤں کی ضرورت ہے اور سب سے بڑی خصوصیت اس رشتہ میں یہ ہے کہ وہ جو اتنی دور مرکز سے (پاکستانی سے پہلے ہندوستانی تھے۔پھر پاکستان میں تھے ) رہے۔دنیا داروں کے اندر رہے۔دنیوی ماحول میں ان کے بچوں نے پرورش پائی لیکن اس عزیزہ نے خوشی سے ایک ایسا رشتہ پسند کیا ہے ( بچیاں بولا تو نہیں کرتیں لیکن بہر حال ان کی پسند بھی ضروری ہے اور منظوری کے بغیر نکاح نہیں ہوتا) جو واقف زندگی ہے۔واقف زندگی تو ہرلحاظ سے ہماری دعاؤں کا حق رکھتا ہے اور عزیزہ عابدہ اپنے خاص حالات کی وجہ سے ہماری دعاؤں کی حقدار ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ یہ رشتے سارے خاندانوں کے لئے بہت مبارک ثابت ہوں اور ایسی نسل ان سے چلے کہ جو اپنے ربّ پر فدا ہونے والی اور دنیا کی کوئی پرواہ نہ کرنے والی ہو۔( آمین ) از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )