خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 392 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 392

خطبات ناصر جلد دہم ۳۹۲ خطبہ نکاح ۲۴ فروری ۱۹۶۸ء کی جو سیحی صفات ہیں ان کی بنیادی صفات یہ چار ہیں۔جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چاروں صفات اس کے وجود، کرم اور رحمت پر دلالت کرتی ہیں اور اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس کا منشا بھی ہے کہ وہ ہم سے رحم اور کرم کا سلوک کرے مگر کئی بدقسمت لوگ اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں کی وجہ سے اپنے کو صفات الہیہ کے پرتو سے دور کر لیتے ہیں اور پھر دکھ اٹھاتے ہیں۔ہمیں ہر وقت خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی راہوں سے بھٹک نہ جائیں اور عاجزانہ راہوں سے چاہئیں کہ ان چار صفات کے پر تو کے نیچے رہیں کیونکہ جو شخص ان چار صفات کے پرتو سے نکل جاتا ہے تو وہ دکھ اٹھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلقات کے متعلق ہماری راہنمائی فرمائی ہے اور اسلام میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ بد رسوم اور بڑے رواجوں سے بچے رہیں۔ہمیں خیال رہنا چاہیے کہ ان جھوٹی عزتوں کی خاطر خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کی تعلیم کو قربان نہ کریں۔کرائی۔اس کے بعد حضور پرنور نے نکاحوں کا اعلان فرمایا اور رشتوں کے بابرکت ہونے کی دعا از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )