خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 266 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 266

خطبات ناصر جلد دہم ۲۶۶ خطبہ نکاح ۱۰ / مارچ ۱۹۶۶ء کہ اگر ان کی بچی یا ان کی ہمشیرہ بگڑے ہوئے حالات میں اپنے خاوند سے طلاق یا خلع لے گی تو ان کی ناک کٹ جائے گی۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے عزیز رشتہ دار اس عادت اور اس رسم کی وجہ سے کس قدر تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں چند روز کا ذکر ہے مجھے ایک بہن نے لکھا کہ آپ نے اپنے ایک خطبہ میں ان بہنوں سے تو ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ان کی تکلیف کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے جو بیوہ ہو کر بیٹھ جاتی ہیں اور جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ وہ ان کی تکالیف کا خیال رکھے اور ان کی دوبارہ شادی کا انتظام کرے لیکن آپ نے میرے جیسی لڑکیوں کی طرف کیوں توجہ نہیں کی۔میں کئی سالوں سے اپنے بھائیوں کےگھر میں بیٹھی ہوئی ہوں۔مجھے میرا خاوند اپنے گھر بسا نہیں رہا اور اس کی عادات اور اخلاق بھی اس قدر بُرے ہیں کہ میں خود بھی اس کے گھر بسنا نہیں چاہتی لیکن میرے بھائی مجھے مجبور کر رہے ہیں کہ میں اپنے خاوند سے طلاق نہ لوں کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے ان کی ناک کٹ جائے گی۔آپ نے میرے اور میرے جیسی لڑکیوں کے متعلق نہیں بتایا کہ اسلام نے کیا حکم دیا ہے اس طرح آپ نے ہماری طرف توجہ نہیں کی۔سواسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ اگر کوئی لڑکی اور لڑکا میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی نہ گزار سکیں۔تو انہیں ضلع یا طلاق کے ذریعہ (جو بھی شکل ہو ) علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسلمان عورت آئی اور اس نے عرض کیا۔یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں اپنے خاوند کے گھر نہیں بس سکتی۔آپ میری علیحدگی کا انتظام فرما دیں۔آپ نے اس سے اس کی وجہ پوچھی۔تو اس نے کہا۔میرا دل نہیں مانتا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی علیحدگی کا انتظام فرما دیا اور اسے اس کے خاوند سے خلع دلوادیا۔طلاق کے متعلق جو یہ آیا ہے کہ یہ حلال چیزوں میں سے ایسی چیز ہے جسے خدا تعالیٰ عام حالات میں پسند نہیں کرتا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ طلاق فی ذاتہ بُری چیز ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ طلاق دینے والا مرد اور اس کے افعال خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بُرے ہیں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند