خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 265 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 265

خطبات ناصر جلد دہم ۲۶۵ خطبہ نکاح ۱۰ / مارچ ۱۹۶۶ء بعض خاندانوں میں بیوہ عورت کی شادی کرنا رسم و رواج کے خلاف ہے خطبه نکاح فرموده ۱۰ / مارچ ۱۹۶۶ ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مکرمہ ریحانہ بنت چوہدری بشیر احمد صاحب باجوہ کارکن دفتر آبادی ربوہ کا نکاح ہمراہ چوہدری محمد اسلم صاحب ابن مکرم ڈاکٹر محمد انور صاحب سکنہ اسلامیہ پارک لاہور بعوض گیارہ ہزار روپیہ مہر کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دنیا میں آدمی کے کئی تعلقات ہوتے ہیں۔جن میں سے رشتہ ناطہ کے ذریعہ پیدا ہونے والے تعلقات بھی ہیں۔پھر دنیا کے رسم و رواج بھی ہوتے ہیں بعض عادات بھی ہوتی ہیں اور پھر دنیا کے بنائے ہوئے قانون بھی ہوتے ہیں لیکن ان تعلقات ، ان رسم و رواج، ان عادات اور دنیا کے بنائے ہوئے قوانین میں کوئی گہری محبت نظر نہیں آتی ، بلکہ بسا اوقات یہ ہمارے لئے فتنہ کا باعث بنتے ہیں اور ہمیں ان کے نتیجہ میں دکھ اور رنج اٹھانا پڑتا ہے مثلاً بعض علاقوں میں یا بعض خاندانوں میں بیوہ عورت کی شادی کرنا رسم و رواج کے خلاف ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کی ناک کٹ جاتی ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں بلکہ انسانیت کی ناک کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام میں بیوہ کی شادی پر زور دیا ہے۔اسی طرح بعض خاندانوں میں عادتاً یا رواج یہ سمجھا جاتا ہے