خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 254 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 254

خطبات ناصر جلد دہم ۲۵۴ خطبہ نکاح ۱۱ فروری ۱۹۶۶ء بجالا ئیں۔حضرت ابو مسعود انصاری روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔إِذَا انْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً یعنی جب کوئی مسلمان اپنی بیوی اور بچوں پر کچھ خرچ کرتا ہے اور دنیا کے اکثر لوگ ایسا کرتے ہی ہیں۔ہاں بعض ناسمجھ افراد گھر سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور سسرال سے بھی لڑائی کرتے رہتے ہیں لیکن اکثر لوگ اپنے بیوی بچوں پر خوشی سے خرچ کرتے ہیں ) تو خدا تعالیٰ اس پر احسان کرتے ہوئے اسے ثواب کا موجب بنا دیتا ہے اور اس پر اپنے قرب کی راہیں کھول دیتا ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس نیت سے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرے گا کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ بطور نگران ان پر خرچ کرے اور ان کی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھائے اور پھر یہ امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اس کام کی جزا دے گا تو خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اس کے اس نفقہ یعنی خرچ کو صدقہ قرار دے دے گا۔اور اسے اپنے قرب کے حصول کا ایک ذریعہ بنادے گا۔کیونکہ صدقہ کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ وہ خرچ جو خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ذریعہ ہو۔پس یہ اور اس قسم کی دوسری تعلیمیں جو دنیوی کاموں کے متعلق دی گئی ہیں۔خدا تعالیٰ کا انسان پر ایک بڑا احسان ہے۔مفت میں ثواب ملتا رہتا ہے کیونکہ دنیا کے کام تو ہر انسان کرتا ہے لیکن اگر وہ یہ نیت کر لے کہ وہ یہ کام خدا تعالیٰ کے ارشاد اور اس کی ہدایت کے ماتحت کر رہا ہے تو ایسا کرنے پر کوئی پیسہ خرچ نہیں آتا اور نہ کوئی وقت ضائع ہوتا ہے۔صرف دل و دماغ میں ایک کیفیت ایک ذہنیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم دنیا کے کام اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کے کرنے کی ذمہ داری خدا تعالیٰ نے ہم پر عائد کی ہے اور ہم نے انہیں ان حدود کے اندر رہ کر بجالانا ہے جو اس نے مقرر کی ہوئی ہیں۔پھر اس کے ساتھ وہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان نیات کو پورا کرے گا اور ان پر اپنے قرب کی راہیں کھولے گا۔تو اس نیت سے دنیا کے کام کرنے والے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے ایجاب و قبول کرایا اور پھر حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربو ه ۲۶ فروری ۱۹۶۶ صفحه ۳)