خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 1
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۲۳ جنوری ۱۹۶۶ء ہر نیک عمل جو انسان کرتا ہے اپنے اندر چار عید میں رکھتا ہے خطبہ عید الفطر فرموده ۲۳ /جنوری ۱۹۶۶ ء بمقام مسجد مبارک ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج عید کا دن ہے اور عید اس واقعہ کو کہتے ہیں جو بار بار آئے مَرَّةً بَعْدَ أُخْرى اور پھر انسان کی خوشی کا موجب ہو۔ایسے واقعات جو بار بار آتے ہیں اور انسان کی خوشی کا موجب ہوتے ہیں ان میں دنیوی واقعات بھی ہیں اور روحانی واقعات بھی ہیں لیکن دنیوی لحاظ سے یہ ضروری نہیں کہ خوشی کے واقعات انسان کے لئے حقیقی خوشی کا موجب بھی ہوں۔مثلاً اولاد ہے انسان اسے نعمت سمجھتا ہے اور جس گھر میں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے اس بچہ کی پیدائش کا دن اس گھرانہ کے لئے عید کا دن ہوتا ہے لیکن بسا اوقات بچے کی ولادت کے ساتھ ہی اس کی ماں بیمار ہو جاتی ہے اور بجائے خوشی کے سارا گھر فکروں میں مبتلا ہو جاتا ہے پھر ملازمت پیشہ لوگ ہیں جن کا گذارہ ماہانہ آمد پر ہوتا ہے مہینہ کی پہلی تاریخ ان کے لئے خوشی لاتی ہے کیونکہ ماہانہ اخراجات چلانے کے لئے انہیں تنخواہ مل رہی ہوتی ہے۔اس طرح ہر مہینہ کی پہلی تاریخ ان کے لئے عید کا دن ہوتا ہے لیکن بعض اوقات مہینہ کی پہلی تاریخ کو ان کے گھر میں کوئی موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ دن ان کے لئے عید کا باعث نہیں بنتا بعض اوقات مہینہ کی پہلی تاریخ کو ان میں سے کسی کے ہاں بچہ بھی