خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 224
خطبات ناصر جلد دہم ۲۲۴ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء نمبر ۴۔جو اللہ کے باغی ہیں۔اس کی اطاعت سے باہر نکلتے ہیں۔اللہ ان کا نگران ہے۔صرف اللہ ان کا نگران ہے۔ان کا واسطہ کسی اور ہستی سے نہیں۔کیونکہ جب اطاعت اللہ کی کرنی ہے تو اللہ کی اطاعت سے نکلنے والے کا معاملہ جو ہے وہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر وکیل یا نگران کے طور پر مبعوث نہیں ہوئے اور نگران جو ہے وہ صرف یہ نہیں کہ ان کو کھلی چھٹی ہے گناہوں کی۔یہ نہیں کہ ان کے لئے کوئی ہدایت نہیں کہ وہ گناہوں سے بچ سکیں۔یہ نہیں کہ ان کو استعداد نہیں دی گئی نیکیاں کرنے کی۔یہ نہیں کہ ان کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی محبت کو رکھا نہیں گیا۔خدا تعالیٰ نگران ہے اس معنی میں کہ یہ قرآن انذار کے لئے اس نے اتارا ہے۔قرآن کریم بشارتوں سے بھی بھرا ہوا ہے اور تنبیہ سے بھی بھرا ہوا ہے اور ہوشیار بھی کر رہا ہے۔تا اُخروی زندگی کی سزا سے بچاؤ کےسامان پیدا ہوں۔ساتویں یہ کہ انسان کو ضمیر کی آزادی عطا کی تا جن کے اعمال اللہ کی نگاہ میں پسندیدہ ہوں۔ہم آزاد ہیں جو چاہیں کریں۔لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ اگر ہم ایسے اعمال کریں گے جو خدا کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں ہوں گے تو اس کی قہر کی تجلی ہم پر نازل ہوگی۔اگر ہم ایسے اعمال کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پسندیدہ ہو جائیں گے اس میں کوئی ریا نہیں ہوگا، تکبر نہیں ہوگا۔کوئی اور خامی نہیں ہوگی تو خدا تعالیٰ ہم سے پیار کرنے لگ جائے گا اور ہر وہ چیز ہمیں دے گا جس کا وعدہ قرآن کریم نے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے لئے کیا ہے۔پھر فرمایا جو مضمون آیا ہے اس کا خلاصہ ترتیب کے ساتھ بیان کر رہا ہوں۔اللہ ہی پناہ دینے والا ہے۔اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ میں خدا سے بھاگ کر کسی اور جگہ پناہ لے لوں گا جس طرح مشرکین کہتے ہیں کہ ہم بتوں کی پناہ میں آجاتے ہیں یہ ہمارے شفیع ہوں گے اُخروی زندگی میں، غلط۔اللہ ہی پناہ دینے والا ہے اور وہی مردے زندہ کرتا ہے۔نیستی سے ہست کر دیا۔انسان کو پیدا کر دیا۔اس کے جسم کے ذرات مردہ کی شکل میں تھے ان کو زندگی دی اور اسی نے سامان پیدا کئے کہ جو روحانی طور پر اور اخلاقی لحاظ سے مردہ تھے انہیں وہ زندہ کرے اور وہ اپنے ہر ارادہ کو پورا کرنے پر قادر ہے۔