خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 206 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 206

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالاضحیه ۱۲ /نومبر ۱۹۷۸ء میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ اس عید کا تعلق بہر حال فریضہ حج کے ساتھ ہے اور فریضہ حج کا تعلق ایک ایسی قربانی کے ساتھ ہے جو انتہائی ذاتی محبت کی متقاضی ہے اس کے بغیر وہ ادا نہیں کی جاسکتی اور وہ اصلی اور عظیم قربانی جو کسی بندہ نے اپنے رب کے حضور پیش کی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی تھی۔مگر چونکہ آپ کے ساتھ قوموں کو تیار کیا گیا تھا اس قربانی کے پیش کرنے کے لئے ، اس لئے اس تربیت کی ابتدا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے کی گئی۔یہ وہ پہلی مثال تھی جو اس طرح قائم ہوئی کہ لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلتی ہوئی آگ میں پھینک دیا لیکن اس تربیت کے ابتدائی سبق کے وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے ایسے بندوں پر جو فضل نازل ہوتے ہیں۔ان کا اظہار اس طرح ہوا کہ اس آگ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ما ينارُ كُوني بردًا وَ سَلبًا (الانبياء : ٧٠) دشمن اپنے منصوبہ میں نا کام ہوا اور وہ آگ جسے ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے بھڑ کا یا گیا تھا وہ ان کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی پر منتج ہوئی۔اس نے ان کو جلا یا نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں انتہائی لذت اور سرور پیدا ہوا اور اس طرح پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر میں ایک نمونہ پیدا کر دیا گیا اور وہ تیار ہو گئے اپنے بیٹے کو بے آب و گیاہ جنگل میں بسانے کے لئے جو فوری طور پر مار دینے والی تکلیف نہیں تھی۔آگ میں تو چند منٹ کی تکلیف ہوتی ہے اور پھر انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے اگر خدا تعالیٰ کے حکم سے آگ بردا و سلما نہ بن جائے۔ایک لمبے عرصہ تک حضرت ہاجرہ اور ان کے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام نے تکلیف برداشت کی۔ایسے حال میں والدہ کا ہر وقت موت کو اپنے سامنے دیکھنا اور بچے کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا کہ کوئی اس کا وارث ہے یا نہیں اور یہ بھی کہ اسے اس تکلیف سے کوئی بچانے والا ہے یا نہیں۔یہ ایک ایسی قربانی ہے جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ایسی حالت میں ان کا تو گل صرف اللہ تعالیٰ پر تھا اور خدا تعالیٰ کا سلوک ان پر یہ ظاہر کرتا تھا کہ انسانوں سے زیادہ پیار کرنے والا ہمارا پیدا کرنے والا رب ہے وہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہاری ان تکالیف کو دور کر کے ایک قوم یہاں بنادے گا اور سب دنیا کی نعمتیں یہاں اکٹھی کر دے گا اور تمہاری نسلوں پر روحانی