خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 205
خطبات ناصر جلد دہم ۲۰۵ خطبہ عیدالاضحیه ۱۲ / نومبر ۱۹۷۸ء فریضہ حج ایسی قربانی ہے جو انتہائی ذاتی محبت کی متقاضی ہے خطبہ عیدالاضحیه فرموده ۱۲ رنومبر ۱۹۷۸ء بمقام مسجد اقصی ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔عید قربان کے ساتھ ہمیشہ ہی روحانی لحاظ سے بارانِ رحمت کا تعلق رہتا ہے۔کبھی یہ تعلق ظاہری طور پر نظر بھی آتا ہے جیسا کہ آج اس موقع پر بھی نظر آرہا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں دنیوی بارانِ رحمت سے بھی نوازا ہے۔خدا کرے ہماری قربانیاں اس کے حضور ہمیشہ قبول ہوتی رہیں۔یہ عید جسے بڑی عید بھی کہتے ہیں اور عید اضحیہ بھی کہتے ہیں اور عید قربان بھی کہتے ہیں، اس کا تعلق فریضہ حج کے ساتھ ہے جو ہر سال مکہ مکرمہ میں ادا کیا جاتا ہے اور اس فریضہ کا ادا کرنا مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (آل عمران: ۹۸) کی رُو سے ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو اس کے ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔جہاں تک طاقت کا سوال ہے اس کے لئے بہت سی چیزوں کی اور بہت سے حالات کی ضرورت ہے اور اس پر پہلوں نے بھی بحث کی ہے اور ہماری مختلف تقاریر میں بھی ذکر آتا رہتا ہے۔بعض مضامین میں بھی ان کے متعلق لکھا جاتا ہے اس لئے اس تفصیل میں جانے کی اس وقت ضرورت نہیں۔