خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 183 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 183

خطبات ناصر جلد دہم ۱۸۳ خطبہ عید الاضحیه ۲۵؍دسمبر ۱۹۷۴ء تیار کیا اور پھر جس وقت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکیلی آواز بلند ہوئی اور آپ نے دنیا کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خدا تعالیٰ تمہیں اپنے پیار کے لئے چنتا ہے اور یہی میری بعثت کی غرض ہے۔اگر تم نجات چاہتے ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ سے پیار اور محبت اور عشق کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور اس کی علامتیں اپنے وجود میں ظاہر کرنی پڑیں گی۔چنانچہ آپ کے صحابہ نے آپ کی آواز پر دیوانہ وار لبیک کہا۔وہ سر پھرے، پاگل اور مجنون نہیں تھے۔جو نہتے بدر کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے تھے۔نہ وہ لوگ پاگل تھے۔جنہوں نے مکی زندگی میں تکالیف اٹھا ئیں۔نہ ہم ان لوگوں کو مجنون کہہ سکتے ہیں۔جنہوں نے کسریٰ اور قیصر جیسی عظیم طاقتوں سے ٹکر لی تھی۔ان کی غرض کسری کی دولت نہ تھی، ان کا مقصد قیصر کے خزانے نہ تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے اگر وہ خود اور ان کی نسلیں بھی قربان ہوتی ہیں تو یہ ایک ستا اور سچا سودا ہے۔پس یہی وہ ذبح عظیم ہے جس کی طرف آج کی عبادت ہمیں متوجہ کر رہی ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے قومیں آئیں۔جن کا تعلق صرف عرب کے ساتھ نہ تھا بلکہ کچھ عرصہ کے بعد افریقہ کے لوگ بھی آگے بڑھے۔آخر وہ افریقن ہی تھے جو سپین میں اترے تھے۔ان کا بھی یہی مقصد تھا کہ سپین میں خدائے واحد و یگانہ کا نام بلند کیا جائے۔اندھیروں میں بسنے والوں کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان سے آشنا کیا جائے اور لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کے نور سے منور کیا جائے۔جو لوگ ساحل سپین پر اترے تھے۔انہوں نے وہاں اپنی کشتیاں جلا دی تھیں اور اسلام کے لئے قربان ہونے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔یہ ایک انسان کی یا یہ ایک اسماعیل کی قربانی نہ تھی بلکہ ساری قوموں کی قربانی تھی اور یہی وہ ذبح عظیم ہے۔جس کے لئے ان کو بڑی کامیابی کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔وہ مٹھی بھر تھے مگر جہاں بھی گئے اسلام کا جھنڈا بلند کر دیا۔جس آدمی نے دولت کمانی ہو، جس نے ہیرے اور جواہرات حاصل کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بنانا ہو وہ اپنے منصو بہ کو اس وقت عمل میں لاتا ہے جب ظاہری حالات میں دنیوی طور پر کامیابی کا یقین ہوتا ہے مثلاً چین کی موجودہ حکومت ہے۔جس وقت چین کی موجودہ قیادت آزادی کے لئے اور اپنے آئیڈیل کے حصول کے لئے جنگ کر رہی تھی اگر چہ اس نے یہ تحریک