خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 182 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 182

خطبات ناصر جلد دہم ۱۸۲ خطبہ عید الاضحیه ۲۵؍دسمبر ۱۹۷۴ء یہی حال ہے۔اسی لئے اسلام نے عاجزی اور انکسار پر بھی زور دیا اور محبت و ایثار پر بھی۔گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تم خود کو لاٹھی محض سمجھو اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میں مستانہ وار اپنی زندگیاں گزارو۔چنانچہ اس موقع پر مستانہ وار زندگی کا یہ نمونہ ایک ظاہری علامت ہے لیکن اس کے پیچھے ایک عظیم صداقت چھپی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اس فریضہ حج اُس عاشقانہ عبادت کو اللہ تعالیٰ نے ذبح عظیم کا بھی نام دیا ہے۔اس عبادت کا ذبح عظیم کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔” ذبح عظیم“ کا لفظ ہمیں اس صداقت سے متعارف کرواتا ہے کہ دنبے ذبح کرنا کوئی چیز نہیں اور طواف کرنا کوئی چیز نہیں اور حجر اسود کا بوسہ دینا کوئی چیز نہیں۔اصل چیز اللہ تعالیٰ کے پیار میں اس کے حکم کو ماننا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے۔کہ وہ طواف کرتے ہوئے جس وقت حجر اسود کا بوسہ لیتے تھے تو ساتھ یہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں لیکن خدا کہتا ہے کہ میں تجھے بوسہ دوں۔اس لئے بوسہ دیتا ہوں۔در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے بنیا د رکھی گئی تھی۔ایک عظیم تر بیت کی اور یہی وہ تربیت ہے۔جس نے عشق کی مستی میں ذبح عظیم کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔میں نے اپنے بعض خطبوں میں پہلے بھی بتایا تھا کہ بعثت نبوی سے اڑھائی ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ مستقبل کی صداقتیں بتائی گئی تھیں اور جس قسم کے ایثار پیشہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مشن کی کامیابی کے لئے چاہیے تھے ان کی تیاری کے لئے ہدایتیں دی گئی تھیں۔جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ایک بچے کو ذبح کرنے پر آمادگی ظاہر کی تو اگر چہ یہ بھی بظاہر ایک بہت بڑی قربانی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کو پکڑا اور جھنجھوڑا اور کہا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ( خدا تعالیٰ نے فرمایا مجھے ایک جان کی ضرورت نہیں مجھے تو ان قوموں کی ضرورت ہے جو میرے نام پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اڑھائی ہزار سال تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آیا۔ان کی اولاد میں بھی نبی ہوئے اور ان کے علاوہ بھی نبی آئے جنہوں نے انسان کی روحانی استعدادوں کو عروج پر پہنچانے کی کوششیں کیں اور ذہن انسانی کوقبولیت رسالت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے