خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 144
خطبات ناصر جلد دہم ۱۴۴ خطبہ عیدالاضحیہ ۱۷ / فروری ۱۹۷۰ء اور پھر ایک اور طاقت جو ایک دفعہ تعلق کے قائم ہو جانے کے بعد تعلق چھوڑنے پر کسی طرح راضی نہیں ہو سکتی انسانی روح کو یہ ملی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وصال سے لذت محسوس کرنے کی طاقت پاتا ہے ویسے تو اللہ تعالیٰ ہر چیز کے اندر ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اللہ تعالیٰ کے علم نے اپنی ہر مخلوق کو احاطہ کیا ہوا ہے اور اس طرح اس کے تصرف کے اندر ہے کہ کہا جاسکتا ہے وہ ہر چیز کی پاتال تک ، ہر چیز کی جڑوں تک ، ہر چیز کے دل تک، ہر چیز کی روح تک اس کی قدرت کی انگلیاں جو ہیں وہ پہنچی ہوئی ہیں۔وہ اس سے باہر نہیں ہیں۔لیکن اس قرب کے باوجود جو ایک خالق اور ایک رب کی حیثیت سے ایک درخت کو حاصل ہے یا ایک گھوڑے کو حاصل ہے اس کے قرب کے باوجودلذت وصال کی قوت ان کو نہیں ملی۔کیونکہ درخت اس بات میں لذت محسوس نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کا اس قسم کا قرب اس کو ملے۔لیکن انسانی روح کو یہ قوت عطا کی گئی ہے کہ وہ وصال الہی سے لذت اور سرور حاصل کرے۔پس جہاں اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے رب کے لئے محبت ذاتیہ قائم کرنے اور اسے نشوونما دینے کی طاقت رکھتا ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ محبت ذاتیہ ہر آن آگے ہی آگے بڑھتی جاسکتی ہے۔روح کے اندر یہ طاقت ہے کہ اگر وہ کوشش کرے تو غیر متناہی قرب کے دروازے اس پر کھولے گئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات اور صفات میں غیر محدود ہے انسان کو اسی رب نے یہ طاقت دی ہے کہ وہ اس کی ذات اور صفات کی معرفت غیر متناہی طرق سے حاصل کر سکے۔یہ دروازے اس کو نہیں تو ساتھ ہی چوتھی قوت کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے وصال سے جو لذت انسان حاصل کر سکتا ہے وہ بھی اپنی ہر جہت کے لحاظ سے غیر متناہی ہے۔اسی طرح جس طرح اللہ تعالیٰ کے جو غیر محدود ہے اس کے ساتھ پوائنٹس (Pionts) یعنی نکتے جہاں سے انسان اس کے ساتھ تعلق قائم کر سکتا ہے وہ غیر متناہی ہیں۔متنا ہی چیز سے جو ایک مجسم اور محدود ہے اس کے اندر ملاپ کے پوائنٹس (Pionts) یعنی نکتے جو ہیں وہ محدود ہیں لیکن جو غیر محدود ہستی ہے اس کے ساتھ ملاپ کی جڑیں جو ہیں وہ غیر متناہی ہیں۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شأن (الرحمن:۳۰)۔