خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 2
خطبات مسرور جلد نهم 2 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء کو سمجھتا ہے اور جب اس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے قربانیاں پیش کرنے کے بعد جب وہ بر اور است خد اتعالیٰ کے غیر معمولی اسلوب کا مورد بنتا ہے تو اس مالی قربانی پر ایمان اور یقین اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین، اور اسلام کی سچائی پر یقین اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر یقین اور پختہ ہو جاتا ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے حوالے سے ہی بات ہو رہی ہے۔فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اپنی دولت کا اظہار نہیں چاہتے ، جو کسی پر احسان کرنے کے لئے خرچ نہیں کرتے ، جو خرچ کرنے کے بعد احسان جتانے کے لئے خرچ نہیں کرتے بلکہ خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اپنے میں سے کمزوروں کو مضبوط کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔جماعت کو مضبوط کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا اور اپنے نفس اور اپنے لوگوں کو ثبات دینے کی خواہش، مضبوط کرنے کی خواہش ہر شریف الطبع اور نیک فطرت کو ہوتی ہے اور ہو سکتی ہے۔بد فطرت کو تو یہ خواہش کبھی نہیں ہو سکتی۔ایسے لوگ جو اپنی ذات سے بالا تر ہو کے سوچتے ہیں اُن کو یہ خواہش ہوتی ہے۔پس جو اپنی ذات سے بالا ہو کر سوچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں، اُن کا خرچ کبھی دولت کے اظہار کے لئے نہیں ہو تا۔نہ احسان کرنے اور احسان جتانے کے لئے ہوتا ہے۔اور ایسے خرچ میں صرف دولتمند ہی شامل نہیں ہوتے بلکہ غریب بھی شامل ہوتے ہیں۔غریب بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے خواہشمند ہوتے ہیں بلکہ عموماً دولتمندوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے خواہشمند غریب لوگ ہوتے ہیں۔انبیاء کی جماعتیں جب بنتی ہیں تو ان میں بھی اکثریت غرباء کی ہوتی ہے اور اس غربت کے باوجود اپنے بھائیوں کی مدد کر کے اُن کی خدمت کرتے ہیں اور جماعت کی بھی جو خدمت وہ کر سکتے ہیں، جس حد تک اُن کی وسعت ہو وہ کرتے ہیں اور اسے مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انفرادی طور پر ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کی اعلیٰ ترین مثال ہمیں آنحضرت صلی علیم کے صحابہ میں ہجرت مدینہ کے وقت نظر آتی ہے کہ جب انصار نے مہاجرین کو اُن کے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے ، اُن کی مدد کرنے کے لئے بے مثال قربانی دی۔پھر جماعتی طور پر بھی صحابہ کے ہی نمونے نظر آتے ہیں۔جب بھی کسی مہم کے لئے آنحضرت صلی علیم کی طرف سے چندے کی تحریک ہوئی یا کسی بھی مقصد کے لئے چندے کی تحریک ہوئی تو جو کچھ پاس ہو تا اس کا بہترین حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیتے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی تحریک امیر اور غریب دونوں کو کی ہے۔یہ تحریص ہر ایک کو دلائی ہے کہ اگر خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو اپنی اپنی طاقت اور حیثیت کے مطابق جو بھی کوئی خرچ کر رہا ہو گا، اُس کی اس قربانی کے دوگنے پھل اسے ملیں گے۔غریبوں کو بھی تسلی کروا دی کہ خالص ہو کر جو