خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 1
خطبات مسرور جلد نهم 1 1 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 07 جنوری 2011ء بمطابق 07 صلح 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَمَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبُوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلُ فَأَتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِنْ لَمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلُّ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (البقرة: 266) اور اُن لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس کو ثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں، ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو تھوڑی سی بارش ہی کافی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔آج دنیا میں بسنے والا ہر احمد ی جس نے احمدیت کو سمجھا ہے ، وہ اس یقین پر قائم ہے کہ احمدیت اور ہر احمدی اُس آخری شرعی کتاب پر یقین رکھتا ہے یا احمدیت آخری شرعی کتاب پر یقین رکھتی ہے جو قرآن کریم کی صورت میں حضرت محمد مصطفی صلی للی کم پر اتری اور اس کا ہر حکم قابل عمل ہے۔اور اس کے ہر حکم کی بجا آوری ایک مومن کو حقیقی مومن بناتی ہے۔اور خدا کی راہ میں مالی قربانی بھی خدا تعالیٰ کے اہم حکموں میں سے ایک حکم ہے جس کے بارے میں سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیات میں ہی یہ فرمایا ہے کہ قرآنِ کریم متقیوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔اُن کے لئے جو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَیبِ (البقرة:4) یعنی غیب پر ایمان لانے والے ہیں۔وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ (البقرة:4) اور۔نمازوں کو قائم کرنے والے ہیں۔وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4)۔اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کرنے والے ہیں۔پس یہ تینوں باتیں متقی ہونے کے لئے اور قرآنِ کریم سے ہدایت پانے کے لئے ضروری ہیں۔جن میں سے ایک جیسا کہ میں نے کہا، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔اور پھر سورۃ البقرۃ میں ہی آخر تک متعدد جگہ قربانیوں کا اور مالی قربانیوں کا مختلف رنگ میں، مختلف حوالوں سے بیان ہوا ہے۔اور اسی طرح باقی قرآنِ کریم میں بھی بے شمار جگہ پر رزق کی قربانی کے بارے میں ذکر آتا ہے۔پس ایک احمدی مسلمان مالی قربانی کی اہمیت