خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 557
خطبات مسرور جلد نهم 557 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء ایک الہام میں ایک جگہ آپ کو فرمایا کہ بشری لَكَ يَا اَحْمَدِی (تحفہ بغداد روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحہ 23) تجھے بشارت ہواے میرے احمد ! پس یہ قانون، یہ سختیاں، یہ ظلم مسیح موعود کی جماعت کی ترقی کو روک نہیں سکتے۔انجام کار فتوحات کے دروازے کھلنے کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہی خبر دی ہے۔اور متعدد بار اور مختلف پیرائیوں میں یہ خوشخبری دی ہے۔گو ایک دور میں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔بعض جگہوں پر زیادہ سختی ہے اپنی کتاب آسمانی فیصلہ میں آپ فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے صاف لفظوں میں فرمایا ہے کہ آنَا الْفَتَّاحُ افْتَحُ لَكَ تَرَى نَصْرًا عَجِيْبًا وَ يَخِرُّونَ عَلَى الْمَسَاجِدِ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ۔۔۔یعنی میں فتاح ہوں۔مجھے فتح دوں گا۔ایک عجیب مدد تو دیکھے گا۔اور منکر یعنی بعض ان کے جن کی قسمت میں ہدایت مقدر ہے اپنے سجدہ گاہوں پر گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہ بخش، ہم خطا پر تھے“۔آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد نمبر 4 صفحہ 342) پھر آپ کا ایک الہام ہے کہ "لَكَ الْفَتْحُ وَلَكَ الْغَلَبَةَ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ 702) کہ تیرے لئے فتح ہے اور تیرے لئے غلبہ۔پس جن مشکلات اور جماعت کے خلاف کارروائیوں اور قانون سازیوں سے خاص طور پر پاکستان کی جماعت اور پھر انڈو نیشیا، ملائیشیا کی جماعتیں یا بعض اور مسلم ممالک کی جماعتیں گزر رہی ہیں ان کے پیچھے اس سے زیادہ کامیابیوں اور فتوحات کی نوید اور خوشخبریاں اللہ تعالیٰ ہمیں دے رہا ہے جن سے ہمارے مظلوم احمدی گزر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو ایمانی جرآت زمانے کے امام نے ہمیں دی ہے وہ ان ظلموں اور تنگیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لاتی۔اگر کوئی اور دنیاوی جماعت ہوتی تو ان ظلموں کی وجہ سے کب کی ظالموں کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہوتی یا منافقانہ رویہ اپنا رہی ہوتی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ نہ صرف ظلم کا مقابلہ کر رہی ہے بلکہ تمام تر نا مساعد حالات کے باوجو د ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔اگر کوئی عقل رکھنے والا ہو، انصاف پسند ہو تو اُس کے لئے اس جماعت کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے لئے یہی دلیل کافی ہے اور ہونی چاہئے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا جو میں نے ابھی پڑھا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ جب انہی میں سے جو اس وقت نام نہاد ملاں کے زیر اثریا اس کے خوف کے زیر اثر یا قانون کے خوف سے حق کو نہیں پہچان رہے، اپنی سجدہ گاہوں پر گر کر خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق سے وابستہ ہونے میں فخر محسوس کریں گے اور جو بد فطرت ہیں وہ اپنے انجام کو اس طرح دیکھیں گے یا وہ دنیا کے لئے اس طرح عبرت کا نشان بنیں گے جس طرح پہلے نبیوں کے مخالفین اور حق کے مخالفین بنتے رہے جس کا قرآنِ کریم میں کئی جگہ ذکر آیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ اَو لَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ كَانُواهُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ