خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 556

556 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہم بیشک آج تھوڑے ہیں اور دنیا کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ہمارے پر طیش اُنہیں اس لئے نہیں آتا کہ ہم کوئی گناہ کر رہے ہیں یا بڑا جرم کر رہے ہیں، ہم کوئی قانون توڑ کر ملک کو نقصان پہنچارہے ہیں، ہم قانون کی پابندی نہ کر کے لوگوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں، ہم کسی قسم کی دہشت گردی کر رہے ہیں۔ہمارے پر طیش انہیں اس لئے آرہا ہے کہ ہم چونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و وفا کا رشتہ نبھارہے ہیں۔ہم کیونکہ وطن کی محبت میں امن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ہم اللہ کی مخلوق کے حقوق سلب اور پامال کیوں نہیں کر رہے۔ہم کیوں اُس دہشت گردی کا حصہ نہیں بنتے جس نے ملک میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔پس ہمارا انہیں یہی جواب ہے کہ ہم اس زمانے کے امام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق آنے والے مسیح موعود اور مہدی موعود کو ماننے والے ہیں جس نے دنیا میں آکر اپنے آقا و مطاع کی سنت کو جاری کرتے ہوئے دنیا کو محبت، پیار، امن، آشتی اور صلح کے اسلوب سکھانے تھے۔پس جب ہم اس امام الزمان کی بیعت میں آکر یہ سب کچھ کر رہے ہیں تو اپنے آقا و سید حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ نمونے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے کئے تھے۔ہمیں یہ جرات اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہونے کا حوصلہ اُس جری اللہ نے دیا ہے جسے اس زمانے میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ہمیں اپنی زندگیوں سے زیادہ اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا حوصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس عاشق صادق نے دیا ہے جو ثریا سے زمین پر ایمان لے کر آیا ہے۔پس ہم جب ہر قسم کی قربانیوں کے لئے تیار ہیں، اس بات کا صحیح ادراک رکھتے ہوئے تیار ہیں کہ ہم اُس امام کو ماننے والے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ " جَرِيُّ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد نمبر 1 2 صفحہ 116) که رسولِ خدا ہے تمام نبیوں کے پیرائے میں۔پھر براہینِ احمدیہ حصہ پنجم میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اس وحی الہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر انبیاء علیہم السلام خد اتعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آئے ہیں خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیر اسرائیلی ان سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اس عاجز کو حصہ نہیں دیا گیا۔ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے۔اسی پر خدا نے مجھے اطلاع دی (ہے)۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد نمبر 21 صفحہ 116) پس جب تمام نبیوں میں سے آپ کو حصہ ملا ہے تو بعض مخالفانہ واقعات بھی اُن انبیاء کی تاریخ کے آپ کے ساتھ اور آپ کی جماعت کے ساتھ ہونے تھے۔لیکن یہ مخالفانہ کارروائیاں یا قانون سازیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتیں۔کیونکہ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اُن فتوحات کی بھی خبر دے دی، اُن کامیابیوں کی بھی خبر دے دی جو انبیاء کو ملیں بلکہ اُس سے بڑھ کر کامیابیوں کی خبر دی اور آپ کے