خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 551
551 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دیتے ہیں۔میٹنگ ختم ہوئی تو وہاں بھی ایک دوست نے ایک پر چی مجھے دی جس پر لکھا ہوا تھا اکیس ہزار یورو برائے چندہ تحریک جدید اور نیچے یہی لکھا ہوا تھا کہ میر انام ظاہر نہ کریں۔تو یہ چند واقعات میں نے لئے ہیں۔بیشمار واقعات تھے۔شاید اس سے بھی زیادہ ایمان افروز بعض واقعات ہوں لیکن میں نے کوئی خاص چن کر نہیں لئے بلکہ بغیر غور کئے لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے۔اب اس کے بعد حسب روایت گزشتہ سال کے کوائف پیش کرتا ہوں اور تحریک جدید کے اٹھہترویں (78 ) سال کا اعلان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس نئے سال کو بھی بیشمار برکتوں اور پھلوں سے نوازے۔اللہ کے فضل سے گزشتہ سال جو تحریک جدید کا ستترواں مالی سال تھا اور اکتیس اکتوبر کو ختم ہو ا۔اب تک جو رپورٹس آئی ہیں اُن کے مطابق تحریک جدید کے مالی نظام میں جماعت نے چھیاسٹھ لاکھ اکتیس ہزار پاؤنڈ (£6631,000) کی قربانی پیش کی ہے۔الحمد للہ۔یہ وصولی گزشتہ سال کی وصولی کے مقابلے پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے گیارہ لاکھ باسٹھ ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے۔صرف ایک سال میں اتنا بڑا اضافہ پہلے بھی تحریک جدید کے چندوں میں نہیں ہوا اور یہ اضافہ چندہ دینے والوں کی تعداد میں بھی ہوا ہے اور معیارِ قربانی بھی بہت بڑھا ہے جبکہ دنیا کے معاشی حالات اور خاص طور پر یورپ کے جیسا کہ میں نے کہا ابتر ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس رقم میں بھی برکت ڈالے اور جو جماعتی منصوبے ہیں ان کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ بغیر کسی روک کے مکمل ہوتے چلے جائیں۔جس طرح دنیا کے مالی بحران نے چندہ میں کمی نہیں کی، قربانیوں میں کوئی کمی نہیں آئی اسی طرح اللہ کرے کہ یہ مالی بحران ہمارے منصوبوں میں بھی کوئی روک نہ ڈال سکے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان نے سخت مالی حالات کے باوجود، معاشی حالات کے باوجود اپنی قربانی کا پہلے نمبر کا جو معیار قائم رکھا ہوا ہے، وہ قائم ہے۔اس کے بعد دوسرے نمبر پر اس سال امریکہ ہے۔تیسرے نمبر پر جر منی ہے اور چوتھے نمبر پر برطانیہ ( یوکے) ہے۔پچھلے سال یو کے کا پاکستان کے بعد دوسرا نمبر تھا۔تیسرا امریکہ کا تھا اور چو تھا جر منی کا تھا۔جرمنی چوتھے سے تیسرے پر آیا ہے اور بہت بڑی قربانی دے کر آیا ہے۔کینیڈا حسب سابق پانچویں نمبر پر ، ہندوستان چھٹے نمبر پر۔انڈونیشیا نے بھی گومالی لحاظ سے بہت قربانی دی ہے لیکن ہندوستان کی جماعتوں نے بھی بہت زیادہ قربانی دی ہے اس لئے انڈو نیشیا ساتویں نمبر پر ہی رہا ہے۔آسٹریلیا آٹھویں نمبر پر۔ایک عرب ملک ہے جس کا میں نام لینا نہیں چاہتا، نویں نمبر پر۔سوئٹزر لینڈ دسویں نمبر پر۔اور فی کس ادائیگی کے لحاظ سے اُس عرب ملک کے علاوہ امریکہ ایک سو اٹھارہ پاؤنڈ فی کس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔پھر سوئٹزرلینڈ ہے ، پھر بیجیم ہے۔اور اسی طرح مقامی کرنسیوں میں بھی جو اضافہ ہوا ہے اُس میں جرمنی سب سے زیادہ وصولی کرنے والا ہے۔