خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 550
خطبات مسرور جلد نهم 550 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء دنیاوی ادویات کا بجٹ بڑھا دیا ہے تو میں آخرت کے بجٹ میں کیوں کمی کروں۔چنانچہ ان کے ارشاد کی تعمیل میں موصوف نے نہ صرف بجٹ میں اضافہ کیا بلکہ اپنا نصف چندہ اُسی وقت ادا بھی کر دیا۔ایڈیشنل وکیل المال پاکستان لکھتے ہیں کہ سندھ میں ایک صاحب ہیں ( گزشتہ دنوں جو بارشیں ہوئیں اُس کی وجہ سے سندھ کے حالات بڑے خراب ہیں)۔اُن کا وعدہ پچاس ہزار روپے تھا، کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ فصلوں کو نقصان ہوا ہے میں نے اُن کے حالات کو دیکھتے ہوئے کہ وہ امیر آدمی تھے ، اُن کو کہا کہ آپ کا وعدہ تو زیادہ ہونا چاہئے۔اُس پر انہوں نے اپنا وعدہ پانچ لاکھ روپے کر دیا اور اُس کی نقد ادا ئیگی بھی کر دی مگر چند روز کے بعد جبکہ یہ واپس حیدرآباد آچکے تھے۔انہوں نے ان کو فون کیا کہ آپ خلیفہ المسیح کے نمائندے کے طور پر میرے پاس آئے تھے اور پانچ لاکھ کا اُس وقت میں نے وعدہ کیا کیونکہ آپ نے میرے حالات دیکھتے ہوئے مجھے اتناہی بتایا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عہد بیعت کا تقاضا ہے کہ اس سے بڑھ کر وعدہ کروں۔جو موجود ہے اُس میں سے وہ دوں اور انہوں نے وہیں دس لاکھ روپے کا وعدہ کر دیا۔گھر گئے تو اُن کی اہلیہ نے کہا کہ میرے جو زیورات ہیں وہ میں اپنی طرف سے تحریک جدید میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔ان کا فون آیا کہ اب رات کا وقت ہے اور میری اہلیہ کہہ رہی ہیں کہ ابھی جا کر مرکزی نمائندے کو یہ زیورات دے کر آؤ، رات میں نہیں رکھوں گی۔تو انہوں نے ان کی اہلیہ کو فون پر سمجھایا کہ رات کا وقت ہے۔سندھ کے حالات ایسے ہیں کہ رات کو سفر مناسب نہیں ہے، صبح مل جائے گا۔لیکن وہ بضد تھیں کہ نہیں ابھی میں نے پہنچانا ہے۔چنانچہ پھر خاوند کو مجبوراً آنا پڑا۔لیکن جب نیت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے حضور وہ چیز پہنچ جاتی ہے۔حالات کو دیکھتے ہوئے اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہئے۔اگر حالات وہاں خراب ہیں تورات کے وقت سفر مناسب نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور کچھ نہیں ہوا لیکن بہر حال احتیاط کرنی چاہئے۔بلا وجہ اپنے آپ کو ابتلا میں بھی نہیں ڈالنا چاہئے۔قازقستان کے ایک نو مبائع دوست کے بارے میں ہمارے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ جماعت کی مرکزی مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے ایک قطعہ زمین انہوں نے خرید کر دیا اور اس کے ساتھ ایک دو منزلہ زیر تو تعمیر مکان کی خرید کی۔پھر دوسرے شہر میں بھی مسجد کی تعمیر کے لئے ایک پلاٹ خرید کر دیا۔یہ نومبائع دوست ہیں اور مجموعی طور پر انہوں نے اس کے لئے چار لاکھ پچانوے ہزار ڈالر کی قربانی کی۔جرمنی کے سیکرٹری تحریک جدید لکھتے ہیں کہ تحریک جدید کے بارے میں ایک جگہ تحریک کی تو اس کی برکات سننے کے بعد ایک خاتون نے ایک ہزار یورو جو زیور خریدنے کے لئے رکھے تھے وہ اُن کو پیش کر دیئے۔جماعت جرمنی کی بہت سی لجنات نے اپنا زیور تحریک جدید کے لئے دے دیا۔ایک بہن نے کمیٹی ڈالی ہوئی تھی وہ کمیٹی کی رقم ساری دے دی۔کہتے ہیں کہ ایک جگہ میں دورے پر گیا تو ایک دوست نے ایک پرچی خاکسار کو دی۔( ان کو جو سیکر ٹری تحریک جدید تھے )۔اُس پر لکھا ہوا تھا ہمیں ہزار یورو چندہ تحریک جدید۔اور اس پرچی کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ میر انام ظاہر نہ کیا جائے۔کہتے ہیں جب میں دوسری جگہ گیا تو وہاں میں نے یہ مثال پیش کی کہ اس طرح بھی لوگ قربانیاں