خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 493
خطبات مسرور جلد نهم 493 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء اور جب بر حق سمجھتے ہیں تو جہاں مسجد میں عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات پر بھی عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تا کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں اُس کے انعامات کے وارث بنہیں۔اور پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل ہو گا اس یقین پر انسان قائم ہو گا کہ آخرت کے سوال جواب سے بھی گزرنا پڑنا ہے تو پھر انسان خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے گا۔اپنی تمام تر توجہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے گا اور حدیث میں آیا ہے کہ بہترین عبادت نماز ہے۔(جامع الاحادیث از جلال الدین سیوطی باب الهمزة مع الف جلد 5 صفحہ 186 حدیث : 3952 بحوالہ المكتبة الشاملة CD) جب مؤمنین کی جماعت نماز کے لئے جمع ہوتی ہے تو پھر جہاں خدا تعالیٰ کی وحدت کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے وہاں ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات اور جماعتی وابستگی اور وحدت کا بھی اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔پھر اُن تمام نیک اعمال بجالانے کی طرف بھی توجہ جاتی ہے جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حق سے ہے یا اُس کی مخلوق کے حق سے ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پھیلانے کا حق ادا کرنے کے لئے اور مخلوق کا حق ادا کرنے کے لئے کیونکہ ہمیشہ وسائل کی ضرورت ہے اس لئے مساجد آباد کرنے والوں کے عملوں کے ذکر میں یہ اہم بات بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما دی کہ وہ زکوۃ دینے والے ہوتے ہیں ، مالی قربانی کرنے والے ہوتے ہیں، اپنے مال کو اپنے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ دین اور مخلوق کے حق کی ادائیگی کے لئے اپنے مالوں میں سے خرچ کرتے ہیں۔یہاں زکوۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور قرآن کریم میں دوسرے کئی مقامات پر نماز کے قیام کے ساتھ عمومی مالی قربانی کا ذکر کیا گیا ہے۔تاکہ جہاں دینی ضروریات پوری ہوتی ہوں وہاں محروم طبقہ کی ضرورت بھی پوری ہو رہی ہو۔پس مسجدیں اور اُنہیں آباد کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کا اُٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو تا ہے۔اُن کے دل میں خدا کا خوف اور خشیت ہوتی ہے۔اُس پیار کی وجہ سے جو اُنہیں خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اور پھر یہ خوف اور خشیت مزید نیکیوں کی طرف لے جارہی ہوتی ہے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں اور جنہیں اللہ تعالی ہدایت یافتوں میں شمار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ناروے کی جماعت نے بڑی قربانی دی ہے اور مسجد نصر کے لئے تقریباً ایک سو چار (104) ملین کرونر خرچ جماعت نے اُٹھایا ہے، کچھ خرچ ابتدائی مرکز نے دیا تھا باقی جماعت نے اُٹھایا ہے۔گو کہ اس میں بڑا لمبا عرصہ لگ گیا جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا لیکن جب میں نے جماعت کو دو ہزار پانچ میں (2005) اس طرف توجہ دلائی ہے، تو فوری توجہ پیدا ہوئی پہلے توجہ بھی کم تھی، اُس وقت کسی نے اپنا مکان بیچ کر وعدہ کیا اور اس کی ادائیگی کی، مجھے لکھا، میں مکان بیچ رہا ہوں، کسی نے کار بیچ کر ر قم مسجد کو ادا کی، کسی نے زائد کام کیا کہ اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر ہو جائے اور میں زیادہ سے زیادہ چندہ دے سکوں۔اللہ کے فضل سے عورتوں نے قربانیاں دیں۔بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے کاروبار بند ہونے کے باوجود بھی اپنے وعدے پورے کئے۔اللہ تعالیٰ تمام قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے۔آج کل حالات کی وجہ سے اُن کے کاروبار میں کچھ نقصان ہے تو اللہ تعالیٰ اُن میں برکت ڈالے۔