خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 43
خطبات مسرور جلد نهم 43 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء ہے۔لیکن کامیابیوں کا بھی ایک وقت ہے۔اس لئے صبر اور برداشت سے کام لینا چاہئے۔اور اے رسول اصلی تمیز کم آپ نے بھی اور آپ کے ماننے والوں نے بھی اسی صبر و برداشت سے کام لینا ہے کہ یہی اولو العزم نبیوں اور ان کے ماننے والوں کا شیوہ ہے۔یہ سختیاں، مشکلات اور ان پر برداشت اور صبر ہی کامیابیاں دلانے کا باعث بنتا ہے اور جب کامیابیاں آئیں گی، دشمن کی پکڑ ہو گی تو تب وہ سوچے گا کہ میں کیا کرتا رہا، تب اسے خیال آئے گا کہ یہ دنیاوی زندگی جسے میں سب کچھ سمجھتا رہا یہ تو ایک گھڑی یا ایک گھنٹے سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی۔پس جہاں تک انبیاء کے مخالفین کی پکڑ کا سوال ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ نام کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کر یہی سلوک دکھایا اور آپ کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ ان کے نام و نشان کو مٹا دیا۔پس کہاں گئے وہ آپ کے بڑے بڑے دشمن جو سردارانِ مکہ کہلاتے تھے۔کہاں گیاوہ بادشاہ جس نے آپ کے پکڑنے کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تھے۔پس جب آنحضرت صلی اللہ یکم کا زمانہ تا قیامت ہے تو خدائی وعدے کے مطابق آپ کے دشمنوں کی پکڑ بھی ہر زمانے میں نشان بنتی چلی جائے گی۔آنحضرت صلی علیہ یکم کے مخالفین نے آپ صلی علیہ کام کو کس کس طرح تنگ کیا۔آپ کے کیا کیا نام رکھے۔آپ کو کس طرح بد نام کرنے کی کوشش کی اس بارہ میں قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَالُوا يَايُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونَ ( الحجر : 7) اور انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر ذکر اتارا گیا ہے، یقینا تو مجنون ہے۔یہ آپ صلی اللہ تم پر استہزاء ہے بلکہ کھلی کھلی ایک گالی ہے۔مکہ میں یہ سورۃ نازل ہوئی اور اس وقت وہاں کی تقریباً ساری آبادی آپ سے یہ سلوک کرتی تھی، سوائے چند ایک نیک فطرت لوگوں کے جو ایمان لے آئے تھے۔لیکن جب آپ صلی للہ ہم مکہ فتح کرتے ہیں تو سب سے محبت اور شفقت کا سلوک کرتے ہیں۔بلکہ جیسا کہ میں گزشتہ خطبہ میں بتا چکا ہوں۔یہ لوگ صرف گالیاں دینے والے ہی نہیں تھے۔یہ لوگ ظلم کی انتہا کرنے والے تھے۔زبر دستی جنگیں ٹھونسنے والے تھے۔لیکن آپ نے ہر ایک سے شفقت کا سلوک فرمایا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا تھا کہ خود میں بدلے لوں گا۔پھر قرآنِ کریم میں سورۃ فرقان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا افْكُ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاء وَظُلْمًا وَ زُودًا ( الفرقان : 5 ) اور جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے کہا یہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں جو اس نے گھڑ لیا ہے اور اس بارہ میں اس کی دوسرے لوگوں نے مدد کی ہے۔پس یقینا وہ سراسر ظلم اور جھوٹ بنانے والے ہیں۔گو اس آیت میں بڑے وسیع مضمون بیان ہوئے ہیں لیکن یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ کو دعویٰ کے بعد وہی لوگ نعوذ باللہ جھوٹا کہنے لگ گئے جو آپ کو سچا کہتے تھے اور ان کی زبانیں اس سے نہیں تھکتی تھیں۔آپ کی سچائی اور امانت کے قائل تھے۔پھر آپ صلی علیہم کے بارہ میں ظالموں کی ہرزہ سرائی کا قرآن کریم میں یوں