خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 44

خطبات مسرور جلد نهم 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء ذکر آتا ہے۔فرمایا کہ وَقَالَ الظَّلِمُونَ اِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا (الفرقان:9) اور ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔پھر ایک آیت میں کافروں کی بیہودہ گوئی کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ عَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرُ مِنْهُمْ وَقَالَ الْكَفِرُونَ هَذَا سحرُ كَذَابُ ( سورة ص : 5 ) اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے کوئی ڈرانے والا آیا، اور کافروں نے کہا یہ سخت جھوٹا جادو گر ہے۔پس کبھی جھوٹا، کبھی جادو گر ، کبھی کچھ اور کبھی کچھ اور کبھی کسی نام سے یہ کافر آپ کو پکارتے رہے اور آپ کے بارہ میں باتیں کہتے رہے اور مختلف رنگ میں استہزاء کرتے رہے۔لیکن آپ کو صبر اور حمد اور دعا کی ہی اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی۔اور یہی تلقین اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی فرمائی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۖ وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأمور (آل عمران : 187) اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور ان سے جنہوں نے شرک کیا بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقینا ایک بڑا ہمت کا کام ہے۔اب ایک مومن کے لئے، ایک ایسے شخص کے لئے جو اپنے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی علیم سے محبت رکھتا ہے ، اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، اُس کے لئے اس سے زیادہ دل آزاری کی اور تکلیف دہ بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے آقا کے بارے میں ایسی بات سنے جس سے آپ کی شان میں ہلکی سی بھی گستاخی ہوتی ہو۔کوئی کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ ایسی باتیں تم سنو تو صبر کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی میں نے گزشتہ خطبہ میں مثال دی تھی کہ کس طرح آپ نے رد عمل دکھایا۔تو حقیقی رد عمل یہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دکھایا لیکن اس کے لئے بھی تقویٰ شرط ہے۔تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اپنے عمل اور دعاؤں سے جو اس کا جواب دو گے تو وہی اس محبت کا صحیح اظہار ہے۔اور جب ہم دشمنوں کی باتیں سن کے تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی دعاؤں سے خدائے ذوالانتقام کے آگے جھکیں گے تو ان دشمنانِ اسلام کے بد انجام کو بھی ہم دیکھیں گے۔لیکن ہمارا اپنا تقویٰ شرط ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے آپ صلی میں ظلم اور قرآن کریم پر اعتراض کرنے والوں کے جواب میں قرآنِ کریم میں جو فرمایا ہے وہ یہی ہے کہ خود ہی اللہ تعالیٰ بدلے لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ایک جگہ دشمنوں کو جو جواب دیا وہ یہ ہے کہ سورۃ الحاقۃ میں فرمایا إِنَّهُ لَقَولُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ - تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ العلمين (الحاقة: 41 تا44) یقینا یہ عزت والے رسول کا قول ہے اور یہ کسی شاعر کی بات نہیں ہے۔بہت کم ہے جو تم ایمان لاتے ہو۔اور نہ یہ کسی کا بہن کا قول ہے۔بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔ایک تنزیل ہے تمام جہانوں کے رت کی طرف سے۔تو اللہ تعالیٰ نے ان سب استہزاء کرنے والوں اور آپ کے مختلف نام رکھنے والوں اور نعوذ باللہ جھوٹا اور