خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 483
483 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پیروں نے بھی پیدا کیا ہوا ہے تو کیا یہ لوگ خیر اُمت میں سے کہلانے کے حقدار ہیں ؟ بہر حال حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن کو کہا کہ دوبارہ اپنے پیر صاحب کے پاس جاؤ تو اُن سے پوچھنا کہ جب قیامت کے دن ایک ایک شخص سے اُس کے عمل کے بارہ میں پوچھا جائے گا اور گناہوں کی وجہ سے جو تیاں پڑنی ہیں تو پھر پیر صاحب کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ نے اپنے مریدوں کے گناہ اُٹھالئے ہیں آپ کو کتنی جو تیاں پڑیں گی ؟ تو بہر حال وہ کہنے لگیں کہ میں پیر صاحب سے ضرور پوچھوں گی۔دوبارہ جب آپ کو ملنے آئیں تو آپ نے فرمایا کہ کیا پیر صاحب سے سوال پوچھا تھا؟ کہنے لگیں میں نے پوچھا تھا اور جس بات کو آپ نے بہت بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا تھا، پیر صاحب نے تو اسے منٹوں میں حل کر دیا۔آپ نے فرمایا کیسے ؟ کہنے لگی میرے سوال پر پیر صاحب کہنے لگے دیکھو جب فرشتے تم سے پوچھیں کہ تم نے فلاں فلاں گناہ کیوں کئے ہیں تو کہہ دینا مجھے تو اس کا کچھ نہیں پتہ۔یہ پیر صاحب یہاں کھڑے ہیں مجھے تو انہوں نے کہا تھا کہ جو جی میں آئے کرو، تمہیں کوئی نہیں پوچھے گا۔اب یہ پیر صاحب کھڑے ہیں ان سے پوچھ لیں۔اس پر وہ تمہیں چھوڑ دیں گے ، تمہاری طرف نہیں دیکھیں گے۔جب تمہاری طرف سے نظریں پھیریں تم دوڑ کر جنت میں داخل ہو جانا۔پیر صاحب کہتے ہیں باقی رہ گیا میرا معاملہ تو جب فرشتے مجھ سے پوچھیں گے تو میں اپنی لال لال آنکھیں نکال کر غصے سے کہوں گا کہ کربلا میں ہمارے نانا حضرت امام حسین نے جو قربانیاں دی تھیں کیا وہ کافی نہیں تھیں کہ آج پھر تم لوگ ہمیں تنگ کر رہے ہو۔دنیا میں دنیا والوں نے ہمارا جینا حرام کر دیا تھا اور آج یہاں آئے ہیں تو تم بھی وہی طریق اختیار کئے ہوئے ہو اور ہمارے اعمال کے بارے میں پوچھ رہے ہو کہ کئے کہ نہیں کئے۔تو اس پر فرشتے شرمندہ ہو کر ایک طرف ہٹ جائیں گے اور ہم گردن اکڑاتے ہوئے جنت میں بڑے رعب دبدبے سے داخل ہو جائیں گے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 208-209) سیہ ہے اس وقت کے پیروں کا حال۔آجکل کے پیر بھی اس قسم کے ہیں کہ بغیر اعمال کے جنتیں دینے والے ، جو حقیقت میں دوزخ کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔خود بھی دوزخ میں گرنے والے ہیں اور اپنے ماننے والوں کو بھی اس طرف لے جانے والے ہیں۔حقیقت میں جو جنت اس مبارک زمانے میں انسانوں کے قریب کی گئی ہے وہ وہ جنت ہے جس کے راستے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دکھائے ہیں۔قرآن و حدیث کی خوبصورت وضاحت کر کے ، اعمال کے بجالانے کی طرف توجہ دلا کر ، لغویات اور بدعات کو ختم کر کے، دنیا کو خدا کے حضور سر بسجود ہونے کے طریق بتا کر، یہ راستے ہیں جو جنت میں جانے کے ہیں اور اس طرح جنت قریب کی گئی ہے۔جہاں تک پیروں کا ذکر ہے یہ صرف اُس زمانے کے پیر نہیں جیسا کہ میں نے کہا جو حضرت خلیفہ اول میں بیان فرمایا ہے، بلکہ آجکل بھی یہی حال ہے۔ایک بہت بڑا طبقہ پاکستان میں بھی اور ہندوستان میں بھی بلکہ اکثر مسلمان ممالک میں جاہل لوگوں کا تو ہے ہی لیکن صرف جاہلوں کا ہی نہیں بلکہ ایسے پڑھے لکھے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے آپ کو کم از کم پڑھا لکھا سمجھتے تو ہیں، جن میں ہمارے لیڈر بھی ہیں اور سیاستدان بھی ہیں۔کئی کا مجھے علم بھی ہے