خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 482

482 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم عہد میں نے اپنے خدا سے کیا ہے اس کو پورا کرنے سے مجھے نہ رو کیں۔پس یہ انقلاب تو ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے افراد میں پیدا کیا ہے۔یہ لوگ عبادت کرنے میں بھی خشوع و خضوع دکھانے والے ہیں۔شریعت کے دوسرے احکام میں بھی عمل کرنے والے ہیں۔چاہے وہ کاروباری معاملات ہوں یا گھر میلو معاملات، تا کہ گھر بھی اور معاشرہ بھی جنت نظیر بن جائے۔اس زمانے میں جب ہر طرف دنیا داری اور نفسا نفسی کا غلبہ ہے، نیکیوں کا جاری کرنا اور انہیں جاری رکھنا اور پھر اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعامانگنا، یہ یقینا اللہ تعالی کی رضا کا باعث بنا تا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا، ایسے لوگ تو ہیں لیکن ایسے لوگوں کی بھی بہت بڑی اکثریت ہونی چاہئے تا کہ ہمارا پورا ماحول اور ہمارا معاشرہ اس دنیا میں بھی اور آئندہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی جنتوں کا وارث بنا رہے۔اور مسیح موعود کے زمانے کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے ویسے بھی فرمایا ہے کہ اُس زمانے میں جنت قریب کر دی جائے گی جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا الْجَنَّةُ ازْلِفَتُ (التکویر : 14) اور جب جنت کو قریب کر دیا جائے گا۔پس خوش قسمت ہیں وہ جو مسیح موعود کی بیعت میں آکر اس قریب کی ہوئی جنت سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور فکر کا مقام ہے اُن لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے اس انعام سے بھر پور فائدہ نہیں اُٹھا رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف ایک قسم کی نیکی کرنے سے تم اللہ تعالیٰ کی مکمل رضا کے حقدار بن جاؤ گے بلکہ تمام نیکیوں کو بجالانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر تم پر پڑے۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر حاصل کرنے کے لئے اپنے تمام اعمال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جو جنت ہمارے قریب کر دی گئی ہے اسے پکڑ سکیں۔ہم نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے جس نے ہمیں تقویٰ پر چلنے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی طرف بے انتہا توجہ دلائی ہے۔ہماری رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم ولی اور پیر بنو نہ کہ ولی پرست اور پیر پرست۔(ماخوذاز ملفوظات جلد دوم صفحہ 139) آجکل کے پیروں نے تو دین کو استہزاء کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔اب دیکھ لیں یہ بہت بڑی بات ہے کہ آپ ہم سے خواہش رکھتے ہیں کہ ولی اور پیر بنو۔خود ہر ایک اپنی ذات میں ولی اور پیر ہو۔لیکن آجکل کے پیروں کی طرح نہیں جنہوں نے اسلام کو استہزاء کا نشانہ بنا لیا ہوا ہے۔آجکل کے پیر تولوگوں کو غلط راستے پر ڈال کر جنت کا لالچ دے کر دوزخ کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی بیان فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ اُن کی ایک بہن کسی پیر کی مرید تھی۔حضرت خلیفہ اول نے انہیں کہا کہ تم بھی اب کچھ خوف خدا کرو، اب سمجھ جاؤ، اپنی دنیا و عاقبت سنوارو اور احمدی ہو جاؤ۔تو وہ کہنے لگی کہ مجھے احمدی ہونے کی ضرورت نہیں۔میں نے فلاں پیر صاحب کی بیعت کر لی ہے وہ بڑے پہنچے ہوئے پیر صاحب ہیں۔انہوں نے مجھے کہہ دیا ہے کہ تمہیں کسی قسم کی نیکیاں کرنے کی ضرورت نہیں۔تم ہماری سچی مریدنی ہو ، جو جی میں آئے کرتی رہو، کوئی نیکی بجالانے کی ضرورت نہیں، تمہارے سب گناہ ہم نے اٹھالئے ہیں۔گویا کفارہ کا نظریہ صرف عیسائیوں میں نہیں ہے ان مسلمان