خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 455

455 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اللہ تعالیٰ بھی اپنے انبیاء کی اس بات کو کہ میں ایک عمر تک تم میں رہا ہوں کبھی جھوٹ نہیں بولا کیا اب بولوں گا، اس بات کو اپنے پیاروں کی ایک بہت بڑی خاصیت اور صفت کے طور پر پیش فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں یہ اقتباس بھی جو پڑھا ہے ، آپ نے سنا۔جب آپ کی سیرت پر دشمن بھی داغ نہیں لگا سکے تو سچائی جو سیرت کا سب سے اعلیٰ وصف ہے اس کے بارے میں کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ جھوٹے ہیں۔آجکل کے مولوی یا جو بھی اعتراض کرنے والے ہیں جو مرضی کہتے رہیں۔ہاں منہ سے بک بک کرتے ہیں کرتے رہیں لیکن کسی بات کو ثابت نہیں کر سکے۔اور آج بھی جو لوگ نیک نیت ہیں اور نیک نیت ہو کر خد اتعالیٰ سے ہدایت اور مددمانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی ثابت فرماتا ہے۔ابھی گزشتہ جمعہ پر میں نے بعض واقعات بیان کئے تھے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کی تصدیق فرمائی جن لوگوں نے خالص ہو کر نیک نیت ہو کر اللہ تعالیٰ سے مدد اور دعا مانگی۔پس یہ سچائی ہے جس کو انبیاء لے کر آتے ہیں جس کا اظہار اُن کی زندگی کے ہر پہلو سے ہوتا ہے اور یہ سچائی ہی ہے جس کو ہم نے (جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے ہیں ) دنیا پر ظاہر کرنا ہے۔کیونکہ انبیاء کے ماننے والوں کا بھی کام ہے کہ جس نبی کو وہ مانتے ہیں اُس کی سچائی کے بارے میں بھی دنیا کو بتائیں۔انہیں بھی ہدایت کے راستوں کی طرف لائیں اور اس زمانے میں اسلام ہی وہ آخری مذہب ہے جو سب سچائیوں کا مرکز ہے۔یہی وہ واحد مذہب ہے جو اپنی تعلیم کو اصلی حالت میں پیش کرتا ہے۔یہی وہ واحد مذہب ہے جس میں ابھی تک خدا تعالیٰ کی کتاب اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور انشاء اللہ قیامت تک موجود رہے گی۔یہ قرآنِ کریم کا دعویٰ ہے جو سچائی اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔باقی سب مذہبی کتب میں کہانیوں اور قصوں اور جھوٹ کی ملونی ہو چکی ہے۔پس اس سچائی سے دنیا کو روشناس کروانا ایک مسلمان کا فرض ہے۔لیکن مسلمانوں کی اکثریت تو خود غلط کاموں میں پڑی ہوئی ہے جیسا کہ پہلے بھی میں نے بیان کیا وہ کسی کو سچائی کا کیا راستہ دکھائیں گے۔ایک موقع پر غیروں کے ساتھ ایک مجلس ہو رہی تھی۔اکثریت عیسائی تھے ، اکثریت کیا بلکہ تمام ہی عیسائی تھے۔تو یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ پیغام لے کر آئے ہیں اور تمام دنیا کے لئے پیغام ہے، مسلمانوں کے لئے بھی ہے ، عیسائیوں کے لئے بھی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جو نیک فطرت ہیں وہ آپ کے ہاتھ پر جمع ہوں گے، چاہے وہ عیسائی ہوں یا ہندو ہوں یا کوئی ہو۔تو اس عیسائی نے ایک بات کی غالباً کسی یونیورسٹی کا پروفیسر تھا لیکن مذہب سے اُس کا کافی تعلق تھا۔مجھے کہنے لگا پہلے مسلمانوں کی اصلاح کر لیں پھر ہماری عیسائیوں کی اصلاح کریں۔تو بہر حال اُس کو جواب تو میں نے اُس وقت دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح ہو ناضروری ہے اور مسلمانوں کی وجہ سے ہی بعض دفعہ شرمندگی اُٹھانی پڑتی ہے۔لیکن بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اس لئے آئے تھے تاکہ مسلمانوں کی بھی اصلاح کریں اور مسلمانوں کے لئے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی حکم فرمایا تھا کہ جب وہ امام مہدی آئے تو تم اس کو مانا، چاہے برف کی سلوں پر جا کر ماننا پڑے۔(سنن ابن ماجه کتاب الفتن باب خروج المهدی حدیث نمبر 4084)