خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 39
خطبات مسرور جلد نهم 39 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء $ خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء بمطابق 28 صلح 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: آنحضرت صلی علیہ نیم کی ایک حدیث قدسی ہے کہ لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میں تجھے پیدانہ کرتا تو د نیا پیدانہ کرتا۔یہ زمین و آسمان پیدانہ کرتا۔(الموضوعات الكبرى لِمُلّا على القارى صفحه 194 حديث نمبر 754 مطبوعة قدیمی کتب خانه آرام باغ کراچی) گو مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اس حدیث کی صحت پر اعتراض کرتا ہے لیکن ہمیں اس زمانہ کے امام اور آنحضرت صلی الم کے عاشق صادق نے اس حدیث کی صحت کا علم دیا ہے۔یہ وہ مقام ہے جو آنحضرت صلی ال نیم کے انتہائی مقام کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔آپ تمام رسولوں سے افضل ہیں۔آپ تا قیامت تمام زمانوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔آپ کو خدا تعالیٰ نے یہ مقام بخشا ہے کہ آپ کی اتباع سے انسان اللہ تعالیٰ کی محبت پاتا ہے۔آپ کو وہ مہر نبوت عطا ہوئی ہے جو تمام سابقہ انبیاء پر ثبت ہو کر ان انبیاء کے نبی ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔آپ کو وہ مقام خاتم النبیین ملا ہے جس کے امتی کو بھی نبوت کا درجہ ملا اور آپ کا امتی اور عاشق صادق ہو نا ہی آپ صلی علیہ یکم کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے مسیح و مہدی کو نبوت کا مقام دلا گیا۔آپ کا قرب خداوندی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یوں فرمایا ہے کہ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلی (النجم : 9) - یہ اللہ تعالیٰ سے قرب کی انتہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ( یہ ) آنحضرت صلی علیہ کم کی شان میں آیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی طرف ہو کر نوع انسان کی طرف جھکا۔آنحضرت صلی اللہ ظلم کا کمال اعلیٰ درجہ کا کمال ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور اس کمال میں آپ کے دو درجے بیان فرمائے ہیں۔ایک صعود ( یعنی بلندی کی طرف جانا )۔دوسر ا نزول۔اللہ تعالیٰ کی طرف تو آپ کا صعود ہو ا یعنی خدا تعالیٰ کی محبت اور صدق و وفا میں ایسے کھینچے گئے کہ خود اس ذاتِ اقدس کے دنو کا درجہ آپ کو عطا