خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 279
279 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے کی۔کہتے ہیں کہ میں نے حضور کی تمام عربی کتب پڑھ لیں اور بہت فائدہ اُٹھایا۔آپ کے کلام نے مجھ پر جادو کا سا اثر کیا۔اس کے بعد میں نے استخارہ کیا تو ایک دفعہ یہ آیت سنائی دی۔عبدا مِنْ عِبَادِنَا أَتَيْنَهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَ عَلَيْنَهُ مِنْ لَدُنَا عِلْمًا (الكهف : 66 )۔جبکہ دوسری طرف مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی ہوئی۔یہ آیت جو ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطا کی ہے اور اپنی جناب سے خاص علم عطا کیا ہے۔“ اس کے بعد کہتے ہیں دوسری دفعہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو میرے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس زمانے کے فتنوں سے بچنے کے لئے صرف مرزا غلام احمد ہی سفینہ نجات ہیں۔کہتے ہیں پھر میں نے اپنی بیوی سے استخارہ کرنے کو کہا تو اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص اُسے کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد اس زمانے کے مجدد ہیں۔لیکن اس واضح خواب کے باوجود انہیں اطمینان نہیں ہوا اور بیعت نہیں کی۔تو کہتے ہیں میں دل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا قائل ہو گیا تھا لیکن اعلان اس لئے نہیں کیا تا کہ اپنے حلقہ احباب کو خود سوچنے کا موقع دوں۔تا وہ میرے پیچھے بلا سوچے سمجھے نہ چل پڑیں۔دوسرے یہ کہ میں چاہتا تھا کہ جماعت کے مخالفین کی کچھ کتب پڑھ لوں۔بالآخر جولائی 2009ء میں انہوں نے اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ بیعت کر لی۔آئیوری کوسٹ کے ایک گاؤں ثنالا (Shinala) کے بے ما (Bema) صاحب نے لوگوں کے سامنے ایک عجیب واقعہ بیان کیا۔کہتے ہیں عرصہ میں سال قبل خاکسار سخت بیماری میں مبتلا ہوا۔مرگی کے دورے پڑنے لگے۔ہر ممکن علاج کیا۔ذرا بھی افاقہ نہ ہوا۔شہر کے ایک عامل نے کچھ تعویذ گنڈے دیتے ہوئے کہا کہ ان کو کمر سے باندھ لو ، یہی تمہاری بیماری کا علاج ہیں۔اُنہی ایام میں کشف کی حالت میں ایک بزرگ آئے اور کہا کہ تم نے یہ کیا پہنا ہوا ہے اسے اتار ڈالو۔تو میرے دل میں بہت زور سے احساس پیدا ہوا کہ یہ بزرگ امام مہدی ہیں۔میں نے کمر سے باندھے تعویذ گنڈے اُتار ڈالے۔اُسی روز خدا تعالیٰ نے مجھے شفا سے نواز دیا۔اُس دن سے آج تک مجھے کبھی مرگی کا دورہ نہیں پڑا۔میں تو اُسی روز سے امام مہدی کو قبول کر کے اُن کی تلاش میں تھا۔آپ لوگ آئے اور امام مہدی کی باتیں کی ہیں تو میں سمجھا ہوں کہ امام مہدی مل گئے ہیں۔پھر اُن کو ہمارے مبلغ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی، خلفاء کی تصاویر دکھائیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر کی طرف اشارہ کر کے فوراً کہا کہ یہی وہ بزرگ ہیں جو مجھے خواب میں ملے تھے اور تعویذ گنڈے سے منع کیا تھا۔تو یہ سب خرافات جو ہیں آجکل کے مولویوں نے، پیروں فقیروں نے کمائی کے لئے شروع کی ہوئی ہیں۔ان خرافات کو ختم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے ہیں، تبھی تو آپ کا نام مہدی بھی رکھا گیا۔پھر ابو ظہبی سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جس قدر کتابیں مجھے مہیا ہو سکیں اُن کے مطالعے سے نیز ایم۔ٹی۔اے کے پروگرام الحوار المباشر کے باقاعدگی سے دیکھنے سے مجھے