خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 265

265 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کی غلامی میں ایک نبی مبعوث ہو گا جس کی تفصیل وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4)۔میں بیان فرما دی اور جس کی وضاحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر فرما دی کہ میرے اور مسیح کے درمیان کوئی نبی نہیں۔(سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب خروج الدجال حديث 4324 مطبع المعارف للنشر والتوضيح طبع اوّل) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسیح و مہدی بھی ہیں، نبی بھی ہیں اور خاتم الخلفاء بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے چودہ سوسال کے بعد مومنین کے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لئے پھر اس خلیفہ کو بھیجا جو امتی ہونے کی وجہ سے نبوت کا اعزاز پا کر پھر خلافت جاری کرنے کا ذریعہ بن گیا۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک دین اسلام تو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے لیکن خوف کو امن کی حالت میں بدلنے کے لئے کامل اطاعت کے ساتھ اور خلافت کے نظام کے ساتھ جڑ کر ہی تم اس کا حقیقی فیض حاصل کر سکو گے اور یہ ضروری ہے۔اور جو اس نظام سے جڑے رہیں گے اُن کے حق میں اس کے ذریعے سے ہر خوف کی حالت امن میں بدلتی چلی جائے گی اور اُن خلفاء کے ذریعے سے ہی غلبہ اسلام کے دن بھی قریب آتے چلے جائیں گے۔لیکن یہاں یہ فرما دیا کہ خلیفہ وقت اور خلافت سے منسلک ہونے والوں کا یہ کام ہے اور اُن کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ خد اتعالیٰ کی عبادت کی طرف خالص ہو کر توجہ دینے والے بنیں۔نمازوں کا قیام اور توحید خالص کا قیام اور اس کے لئے کوشش اُن کو خلافت کے انعام سے فیضیاب کرتی رہے گی۔اُن کی دعاؤں کو خدا تعالیٰ سنے گا۔اُن کی پریشانیوں کو دور فرمائے گا۔اپنے انعامات سے انہیں نوازے گا۔لیکن جو یہ سب دیکھ کر پھر بھی خلافت حقہ کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گے ، فرمایا وہ نافرمان ہیں۔اُن کی نافرمانی کی سزا ملے گی۔وہ اُن انعامات سے محروم ہوں گے جو مومنین کے ساتھ وابستہ ہیں۔مج میں اکثر کہا کرتا ہوں اور آج آپ عامتہ المسلمین کو دیکھ لیں کہ بے چینیوں نے انہیں گھیر اہوا ہے اور غیروں کے دباؤ میں آکر اتنی بے حسی طاری ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کو مروانے کے لئے مسلمان خود غیروں کی مدد حاصل کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُمت کو حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔پھر اس تسلسل میں جو آخری آیت میں نے پڑھی ہے، اس میں پھر تین باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نماز کا قیام، زکوۃ کی ادائیگی اور کامل اطاعت تاکہ اللہ تعالیٰ رحم فرماتے ہوئے اپنے انعام جاری رکھے۔پس اللہ تعالیٰ نے اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جو اپنے انعام کا سلسلہ جاری فرمایا ہے ، اس سے فیض پانے کے لئے ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو یاد رکھنا چاہئے کہ اُس کا وعدہ کامل اطاعت کرنے والوں کے ساتھ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں۔کیونکہ کامل اطاعت کرنے والا وہی ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھے اور اُس کی عبادت کرنے والا ہو۔اور عبادت کرنے کے لئے بہترین ذریعہ جو ہمیں بتایا گیا وہ نمازوں کا قیام ہے۔پس الہی جماعت کا حقیقی حصہ وہی بن سکتا ہے جو نمازوں کے قیام کی بھر پور کوشش کرتا ہو۔نمازوں کے قیام کی ایک بڑی اعلیٰ تشریح اور وضاحت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طرح فرمائی ہے کہ صلوۃ کا بہترین حصہ جمعہ ہے جس میں امام خطبہ پڑھتا ہے اور نصائح کرتا ہے۔اور خلیفہ وقت دنیا