خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 256
256 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مشکلات آئیں تبھی دعائیں کرنی ہیں بلکہ عام حالات میں بھی دعا کرتا رہے کیونکہ اسے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ کے کیا ارادے ہیں ؟ اور کل کیا ہونے والا ہے ؟ پس پہلے سے دعا کرو تا بچائے جاؤ۔بعض وقت بلا اس طور پر آتی ہے کہ انسان دعا کی مہلت ہی نہیں پاتا۔پس پہلے اگر دعا کر رکھی ہو تو اس آڑے وقت میں کام آتی ہے“۔( یہ ہے دعا کی اہمیت)۔(ملفوظات جلد نمبر 10 صفحہ 123،122۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984ء) (ملفوظات جلد 5 صفحہ 443 مطبوعہ ربوہ) پھر اپنی ایک تقریر کے دوران آپ نے فرمایا کہ ”انسان کی ظاہری بناوٹ، اُس کے دو ہاتھ ، دو پاؤں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کار ہنما ہے۔جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوى (المائدة: 3)۔کے معنی سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے “۔( یعنی انسانی جسم کے ہاتھ ہیں، پاؤں ہیں، یہ جو انسانی جسم کی بناوٹ ہے۔جسم کا جو ہر عضو ہے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ہے)۔تو فرمایا اسی طرح ” تعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى (المائدة: 3) کے معنی سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے۔ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ تلاش اسباب بھی بذریعہ دعا کرو“۔( یعنی جو دنیاوی سامان ہے اُس کی تلاش کرنی ہے تو بھی دعا کے ذریعہ کرو)۔امداد باہمی میں نہیں سمجھتا کہ جب میں تمہارے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ کا ایک قائم کردہ سلسلہ اور کامل رہنما سلسلہ دکھاتا ہوں تم اس سے انکار کر و۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت اُن رسولوں کو باقی نہ رہنے دے۔مگر پھر بھی ایک وقت اُن پر آتا ہے کہ وہ مَنْ اَنْصَارِي إِلَى اللهِ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔کیا وہ ایک ٹکڑ گدا فقیر کی طرح بولتے ہیں؟ نہیں۔مَنْ أَنْصَادِی إِلَى اللہ کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے۔وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں“۔( انبیاء جب مَنْ أَنْصَارِكَى إِلَى الله (آل عمران : 53) کہ کون ہیں اللہ کے لئے میرے مدد گار ؟ کہتے ہیں۔تو وہ اُن کو ضرورت نہیں ہوتی)۔فرمایا وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں“۔( یہ بھی دنیا کو سکھانے کے لئے ہے جو دعا کا ایک شعبہ ہے۔ور نہ اللہ تعالیٰ پر اُن کو کامل ایمان اُس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ( ہے کہ) إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا (المؤمن:52)۔ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے۔میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیونکر مدد دے سکتا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان ہے نِعْمَ الْمَوْلَى وَ نِعْمَ الْوَكِيْل وَنِعْمَ النَّصِير۔دنیا اور دنیا کی مددیں ان لوگوں کے سامنے کالمیت ہوتی ہیں اور مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں۔لیکن دنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لئے وہ یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں۔وہ حقیقت میں اپنے کاروبار کا متولی خدا اتعالیٰ ہی کو جانتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے۔وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ (الاعراف: 197)۔اللہ تعالیٰ اُن کو مامور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو دوسروں کے ذریعہ سے ظاہر کریں۔ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مقامات پر مدد کا وعظ کرتے تھے۔اسی لئے کہ وہ وقت نصرت الہی کا تھا، اُس کو تلاش کرتے تھے کہ وہ کس کے شامل حال ہوتی ہے۔