خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 203

خطبات مسرور جلد نهم 203 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء پس یہ جوش ایمان دکھانے والے بھی بہت تھے بلکہ اکثریت میں تھے ، بلکہ ہمیں تو یہ کہنا چاہئے کہ ہمارے مقابلے میں تو سارے کے سارے تھے۔لیکن نبی اپنی جماعت کے اعلیٰ معیار دیکھنا چاہتا ہے اور ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، یہ جو ہمارا دور ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی دور ہے۔ابھی بہت سی پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ کی پوری ہونی ہیں۔آپ سے جو اللہ تعالیٰ نے وعدے فرمائے تھے بہت سے ابھی پورے ہونے والے ہیں۔پس اگر ہم چاہتے ہیں کہ ان وعدوں کو جلد از جلد اپنی زندگیوں میں پورا ہوتا دیکھیں تو ہمیں اپنے صدق و ایمان اور تقویٰ کے معیار پر نظر رکھنی ہو گی۔جب ہم اللہ تعالیٰ سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں جماعتی ترقی دکھائے تو ہمیں اُس کی رضا کے حصول کے لئے بھی کوشش کرنی ہو گی۔یہ بھی بتادوں کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے بہت سے لوگ ہیں اور وہ اگلی نسلوں میں بھی یہ روح پھونک رہے ہیں۔میں نے ایک دفعہ پاکستان کے احمدیوں کے لئے اس فکر کا اظہار کیا تھا کہ لاہور کے واقعہ کے بعد خدام یا شاید صف دوم کے انصار بھی جو جماعتی عمارتوں اور مساجد میں ڈیوٹی دیتے ہیں، ان میں سے بعض کے متعلق یہ اطلاع ہے کہ ایک لمبا عرصہ ڈیوٹی دینے کی وجہ سے ان کی طرف سے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے یا عدم دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے ، اس لئے اس طرف توجہ کی ضرورت ہے یا نظام کو کچھ اور طریقے سے اس بارہ میں سوچنے کی ضرورت ہے۔تو یہ بات جب صدر خدام الاحمدیہ پاکستان نے اپنے خدام تک پہنچائی تو مجھے خدام کی طرف سے ، پاکستان کے خدام کی طرف سے اخلاص و وفا سے بھرے ہوئے کئی خطوط آئے کہ ہم اپنے عہد کی نئے سرے سے تجدید کرتے ہیں۔نہ ہم پہلے تھکے تھے اور نہ انشاء اللہ آئندہ کبھی ایسی سوچ پیدا کریں گے کہ جماعتی ڈیوٹیاں ہمارے لئے کوئی بوجھ بن جائیں۔آپ بے فکر رہیں۔اسی طرح عورتوں کے خطوط آئے کہ ہمارے بھائی یا خاوند یا بیٹے اپنے کاموں سے آتے ہیں تو فوراً جماعتی ڈیوٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور ہم بخوشی اُنہیں رخصت کرتی ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکیلے رہ کر بھی کسی قسم کا خوف نہیں۔پس یہ اخلاص و وفا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے جوش ایمان کی وجہ سے ہے۔اس بارہ میں یہ بھی یادر کھیں کہ ان فرائض اور ڈیوٹیوں کے دوران اپنے خدا کو کبھی نہ بھولیں۔نمازیں وقت پر ادا ہوں اور ڈیوٹی کے دوران ذکر الہی اور دعاؤں سے اپنی زبانوں کو تر رکھیں۔ہماری سب سے بڑی طاقت خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ہمیں جو مددملنی ہے وہ خدا تعالیٰ سے ملنی ہے۔ہماری تو معمولی سی کوشش ہے جو اُس کے حکم کے ماتحت ہم کر رہے ہیں۔جو کرنا ہے وہ تو اصل میں خدا تعالیٰ نے ہی کرنا ہے۔پس جب خدا تعالیٰ سے چمٹ جائیں گے تو خدا خود دشمن سے بدلہ لے گا۔اُس کے ہاتھ کو روکے گا۔پس دعاؤں میں کبھی سست نہ ہوں اور پھر ان عبادتوں اور دعاؤں اور ذکر الہی کا اثر عام حالت میں بھی عملی طور پر ہر ایک کی شخصیت سے ظاہر ہو رہا ہو تو تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے معیار کو پاسکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِيْنَ