خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 201

خطبات مسرور جلد نهم 201 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء لوگوں کی کایا ہی پلٹ جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ایک سنہری موقع ہمیں اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کا عطا فرمایا ہے، اس سے ہم اگر صحیح طور پر فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو یہ ہماری بد نصیبی ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے صدمے اور درد کا جو اظہار فرمایا ہے وہ اُس وقت فرمار ہے ہیں جبکہ آپ سے براور است فیض پانے والے آپ کے صحابہ موجود تھے ، جن کے معیار کے نمونے جب ہم سنتے اور پڑھتے ہیں تو رشک آتا ہے کہ کیا کیا انقلاب اُن لوگوں نے اپنے اندر پیدا کیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درد دیکھیں۔آپ کا معیار تقویٰ دیکھیں جو آپ اپنے مانے والوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔اُس وقت بھی آپ بعض کی حالت دیکھ کر فرمارہے ہیں کہ مجھے اس غم سے سخت صدمہ پہنچتا ہے تو ہماری کمزوری کی حالت کس قدر صدمہ پہنچانے والی ہے۔گو آپ آج ہم میں اس طرح موجود نہیں ہیں لیکن ہماری حالتوں کو تو اللہ تعالیٰ آپ پر ظاہر فرما سکتا ہے کہ کس کس صحابی یا بزرگ یا آپ کے قریبیوں کی اولاد کی کیا کیا حالت ہے ؟ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں گندے ماحول سے بیچ کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی دنیا چھوڑ کر مسیح کے دامن سے مجڑ کر اس عہد کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے رہے کہ ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے ، اُن میں سے بعض کے بچوں کی دینی حالت کمزور ہو گئی ہے اور بعضوں کو اُس کی فکر بھی نہیں ہے۔پس ہمیں اپنی حالت سنوارنے کے لئے اپنے بزرگوں کے حالات کی اس نیت سے جگالی کرتے رہنا چاہئے کہ ہمارے سامنے ایک مقصد ہو جسے ہم نے حاصل کرنا ہے۔ان کی زندگی کے پہلوؤں پر غور کرنا چاہئے۔اُن کی بیعت کی وجوہات معلوم کرنی چاہئیں، تبھی ہم کسی مقصد کی طرف جانے والے ہوں گے اور اُن کی خواہشات کو پورا کرنے والے ہوں گے۔ابھی چند دن ہوئے ہمارے ایک پرانے بزرگ عبد المغنی خان صاحب کے بیٹے مجھے اُن کے بارے میں بتا رہے تھے کہ انہوں نے علیگڑھ یونیورسٹی سے کیمسٹری کے ساتھ بی۔ایس۔سی کی۔اور اُس زمانے میں عام طور پر مسلمان لڑکے سائنس کم پڑھتے تھے۔تو وائس چانسلر نے کہا کہ تم نے یہ مضمون بھی اچھالیا ہے اور اعلیٰ کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ہم تمہیں یونیورسٹی میں جاب دیتے ہیں۔آگے پڑھائی بھی جاری رکھنا۔اُن کے والد صاحب نے کسی انگریز دوست سے سفارش کی ہوئی تھی (اُس زمانے میں ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی ) تو اس نے بھی انہیں کسی اچھے جاب کی آفر کی۔پھر اُن کو یہ مشورہ بھی ملا کہ ہوشیار ہیں، انڈین سول سروس کا امتحان دے کر اُس میں شامل ہو جائیں۔خان صاحب اُن دنوں قادیان آئے ہوئے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا زمانہ تھا۔اُن کو آپ نے تمام باتیں پیش کیں اور ساتھ ہی عرض کی کہ حضور! میں تو دنیا داری میں پڑنا نہیں چاہتا۔میں تو قادیان میں رہ کر اگر قادیان کی گلیوں میں مجھے جھاڑو پھیرنے کا کام بھی مل جائے تو اُسے ان اعلی نوکریوں کے مقابل پر ترجیح دوں گا۔تو ایسے ایسے بزرگ بھی تھے جنہوں نے آگے صحابہ سے فیض پایا۔پھر آپ کو اس کے بعد سکول میں سائنس ٹیچر لگایا گیا۔پھر آپ ناظر بیت المال مقرر ہوئے۔غالباً پہلے ناظر بیت المال تھے۔بہر حال پرانے بزرگ اور خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے تھے لیکن چند ایک کی کمزور