خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 200
خطبات مسرور جلد نهم 200 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء لینا چاہئے۔اپنے دلوں کو ٹٹولتے رہنا چاہئے کہ کیا ہم کہیں ایسی ستیوں کی طرف تو نہیں دھکیلے جار ہے جو کبھی خدانہ کرے، خدا نہ کرے واپسی کے راستے ہی بند کر دیں، یا ہم صرف نام کے احمدی کہلانے والے تو نہیں ہو رہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ارشادات میں، اپنی تحریرات میں متعدد جگہ اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ احمدیت کی حقیقی روح تبھی قائم ہو سکتی ہے جب ہم اپنے جائزے لیتے رہیں اور ہمارے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ ہو۔آپ ہم میں اور دوسروں میں ایک واضح فرق دیکھنا چاہتے ہیں۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ”میں بار بار اور کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ظاہر نام میں تو ہماری جماعت اور دوسرے مسلمان دونوں مشترک ہیں۔تم بھی مسلمان ہو۔وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔تم کلمہ گو ہو۔وہ بھی کلمہ گو ہیں۔تم بھی اتباع قرآن کا دعویٰ کرتے ہو۔وہ بھی اتباع قرآن ہی کے مدعی ہیں۔غرض دعووں میں تو تم اور وہ دونوں برابر ہو۔مگر اللہ تعالیٰ صرف دعووں سے خوش نہیں ہو تا جب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو اور دعویٰ کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو“۔( فرمایا کہ دعویٰ کے ثبوت میں کچھ عملی تبدیلی ہو اور اس کی پھر دلیل ہو۔یہ نظر بھی آرہا ہو کہ دعوی میں جو عملی تبدیلی ہے اس کا واضح طور پر اظہار بھی ہو رہا ہے جو اس کی دلیل بن جائے) پھر فرمایا کہ اس واسطے اکثر اوقات مجھے اس غم سے سخت صدمہ پہنچتا ہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 5۔صفحہ نمبر 604۔جدید ایڈیشن) فرمایا اللہ تعالیٰ صرف دعووں سے خوش نہیں ہو تاجب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو۔اور دعویٰ کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو۔اس واسطے اکثر اوقات مجھے اس غم سے سخت صدمہ پہنچتا ہے“۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے عملی ثبوت چاہتے ہیں۔اس لئے اگر ہم خود اپنی حالتوں کے یہ جائزے لیں تو زیادہ بہتر طور پر اپنا محاسبہ کر سکتے ہیں۔دوسرے کے کہنے سے بعض دفعہ انسان چڑ جاتا ہے یا بعض دفعہ سمجھانے سے انانیت کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن شرط یہ ہے اور اپنے جائزے لینے کے لئے یہ مذ نظر رکھنے کی ضرورت ہے ، ہر وقت یہ ذہن میں ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ مجھے دیکھ رہا ہے اور میں نے ایک عہد بیعت باندھا ہوا ہے جس کو پورا کرنامیر افرض ہے تو پھر انسان اپنا محاسبہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔ایک احمدی چاہے وہ جتنا بھی کمزور ہو ، پھر بھی اس کے اندر نیکی کی رمق ہوتی ہے اور جب بھی احساس پیدا ہو جائے تو نیکی کے شگوفے پھوٹنے شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہر ایک کو اعمال کے پانی سے اس نیکی کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔اس کو ترو تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درد کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔جن کو احساس ہو جائے اُن کی حالت دیکھتے ہی دیکھتے سوکھی ٹہنی سے سرسبز شاخ میں بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔کئی مجھے خط لکھتے ہیں، خطوں میں درد ہو تا ہے کہ ہمارے اندر وہ پاک تبدیلی آجائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔پس جو بھی اپنے احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ جو ماں سے بھی بڑھ کر اپنے بندے کو پیار کرنے والا ہے، اپنی طرف آنے والے کو دوڑ کر گلے سے لگاتا ہے تو پھر ایسے