خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد نهم 198 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء بمطابق 22 شہادت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 293۔حاشیہ ) ایک احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کا دعوی کرتا ہے اُسے ان الفاظ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں، ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔ان پر غور کرنا چاہئے۔ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور جب ایک احمدی یہ کر رہا ہو گا تو تبھی وہ اُسے بیعت کا حق ادا کرنے والا بناتا ہے۔ورنہ تو صرف ایک دعویٰ ہے کہ ہم احمدی ہیں۔وہ سچائی اور ایمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لانا چاہتے ہیں یا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے، جس سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، جیسا کہ آپ کے اس فقرے سے ظاہر ہے کہ ”سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے“ یعنی یہ سچائی اور ایمان اور تقویٰ کا زمانہ کسی وقت میں تھا جو اب مفقود ہو گیا ہے اور اس کو پھر لانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام ہے۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ سچائی اور ایمان اور تقویٰ کے قیام کا یہ زمانہ اپنی اعلیٰ ترین شان کے ساتھ اُس وقت آیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیج کر شریعت کو کامل کرتے ہوئے اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة:4) کا اعلان فرمایا تھا کہ آج میں نے تمہارے فائدے کے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنے احسان کو پورا کر دیا اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔یہ اعلان جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا تو وہ وقت تھا جب یہ سب کچھ قائم ہوا۔پس اس بات میں تو کسی احمدی کو ہلکا سا بھی شائبہ نہیں ، نہ کبھی خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کوئی نئی چیز لے کر آئے ہیں اور نہ کوئی احمدی کبھی ایسا سوچ سکتا ہے۔آپ نے تو اس سچائی، اس ایمان اور