خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 197

197 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " تمہیں وہ کام کرنے کی طاقت ہی کیونکر حاصل ہو سکتی ہے جو دراصل خدا تعالیٰ کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ ان متفرق لوگوں کو صرف آسمانی صور پھونک کر ہی زندہ فرمائے گا۔اور حقیقی صور اُن کے دل ہیں جن میں مسیح موعود کے ذریعہ پھونکا جائے گا اور لوگ ایک کلمہ پر جمع ہو جائیں گے۔یہی خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ جس امت کی اصلاح کا ارادہ کرتا ہے اسی میں سے ایک شخص کو مبعوث کر دیتا ہے۔“ فرمایا لیکن یہ حل علماء اور تمام قوم کو منظور نہیں ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے موسوی سلسلہ کو محمد ی سلسلہ کے مشابہ قرار دیا ہے۔جس طرح یہودی موسیٰ علیہ السلام پر ایمان کے بعد گمراہ ہو گئے تو ایک عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے عیسی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اسی طرح امت محمدیہ میں اسی قدر عرصہ گزرنے کے بعد مسیح موعود کو مبعوث فرمایا ہے۔یہ تو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا مقام ہے نہ کہ اُس کی اس نعمت کے کفر کرنے کا۔مسلمانوں کو تو چاہئے تھا کہ اس خبر کو ایک پیاسے کی طرح قبول کرتے اور اسے خدا کی سب سے بڑی نعمت قرار دیتے لیکن وہ قرآن کو چھوڑ کر لوگوں کی باتوں کے پیچھے چل پڑے اور مسیح موعود کا انکار کر بیٹھے جیسے یہود نے عیسی کا انکار کر دیا تھا۔یوں نافرمانی میں بھی دونوں امتیں مشابہ ہو گئیں۔“ ( الهدى والتبصرة لمن يرى، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 354-360) اللہ کرے کہ مسلم امہ کو اس حقیقت کی سمجھ آجائے کہ آپ ہی وہ وجود ہیں جس نے اس زمانے میں مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے کے لئے آنا تھا اور آئے ہیں۔مسلم ممالک کے جو حالات ہیں، دنیا میں مختلف ارضی و سماوی آفات ہیں، یہ مسلمانوں کو یہ باور کرانے والی ثابت ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں جس فرستادے کو بھیجنا تھا وہ آچکا ہے اور اسے قبول کریں اور مخالفین اسلام کی اسلام کو بدنام کرنے کی جو مذموم کوششیں ہیں اُن کا مقابلہ کرنے کے لئے اس جری اللہ کا ساتھ دے کر اس جہاد میں حصہ لیں جہاں دوسرے مذاہب کو اسلام نے شکست دینی ہے۔امریکہ میں بھی اور یورپ میں بھی وقتاً فوقتاً مختلف لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بیہودہ قسم کے الزامات لگاتے ہیں یا آپ کی ہتک اور توہین کے مر تکب ہو رہے ہیں یا قرآنِ کریم کی ہتک کے مر تکب ہو رہے ہیں، ان کے خلاف اگر آج کوئی جہاد کرنے والا ہے تو یہی اللہ تعالیٰ کا پہلوان ہے جس کے ساتھ شامل ہو کر ، جس کے ساتھ مجھڑ کر ہم دنیا میں اسلام کی برتری ثابت کر سکتے ہیں۔جس کے ساتھ جڑ کر ہم قرآنِ کریم کی تعلیم کی تمام مذہبی کتب پر برتری ثابت کر سکتے ہیں۔اسی کے ساتھ مجڑ کر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے آپ کے بلند مقام کی شان دنیا پر ظاہر کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 6 مئی تا 12 مئی 2011ء جلد 18 شماره 18 صفحہ نمبر 5 تا 9)