خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 8
خطبات مسرور جلد نهم 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء خدا کا ادھار چکا دیا۔اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس طرح اپنا فضل فرمایا کہ ہفتے کے اندر اندر جن لوگوں نے ان کے پیسے دینے تھے وہ سب آئے اور ان کی رقمیں واپس کر گئے۔اب انہوں نے ایک ایکڑ زمین خریدی ہے جس میں سے آدھی چار کنال جگہ مسجد کے لئے جماعت کو دی ہے۔مبلغ نائیجیر یا بیان کرتے ہیں کہ لو کوجہ جماعت کی ایک خاتون اسوت حبیب (Aswat Habib) صاحبہ بتاتی ہیں کہ میں اپنے گھر میں کپڑوں کی ، گارمنٹس کی دکان چلاتی ہوں، لیکن اب میرے شوہر نے سکول کھولا ہے جس کی وجہ سے میر از یادہ وقت سکول کے کاموں میں گزرتا ہے۔اور سکول بھی گھر سے دور ہے جس کی وجہ سے دکان کے کام میں آمدنی کم رہی۔یہ بات میرے لئے پریشان کن تھی۔ایک دن مربی صاحب نے چندہ وقف جدید میں قربانی کی تحریک کی اور مجھ سے جتنا ہو سکتا تھا میں نے اس میں ادا کر دیا۔اُسی دن چند گھنٹوں کے بعد جب میں نے اپنی گارمنٹس کی دکان کھولی تو چند گھنٹوں میں اتنی سیل ہوئی جو پہلے ہفتوں میں نہیں ہوتی تھی۔یہ صرف خدا کی راہ میں چندہ دینے کی برکت ہے جس نے مجھے اتنانوازا۔وڈ گور یجن کے مبلغ لکھتے ہیں جیالو سیکو (Diallo Seko) صاحب جو یہاں کے گاؤں کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے گزشتہ سال بیعت کی ہے اور بیعت کے بعد انہوں نے فوراً چندہ دینا شروع کر دیا اور اس چندے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس مخلص نو مبائع کو ایسی برکت سے نوازا کہ اس کی فصل اسی سال گزشتہ سال کی نسبت دو گنا ہو گئی۔اور اب انہوں نے وقف جدید میں دوبارہ اناج کی صورت میں چندہ دیا ہے۔امیر صاحب برکینا فاسو لکھتے ہیں کہ گاوا ریجن (Gava Region) کے صدر جماعت ہیما یوسف (Hema Yousaf) صاحب بتاتے ہیں کہ ایک روز جیب میں صرف تین ہزار فرانک تھے۔اہلیہ نے کہا کہ گھر میں پکانے کو کچھ نہیں ہے لا کر دیں۔کہتے ہیں کہ اسی اثناء میں میں پیسے لے کر مشن ہاؤس گیا تو وہاں مربی صاحب نے چندے کے وعدے کے متعلق یاد دہانی کروائی کہ آپ کا وقف جدید کا چندہ رہتا ہے۔خاکسار نے یہی سمجھا کہ آج میرا امتحان ہے۔میں نے اسی وقت یہ تہیہ کیا کہ چندہ ہی دوں گا اور فوراً تین ہزار فرانک کی رسید کٹوالی اور اللہ تعالیٰ کو میری حقیر قربانی بہت پسند آئی۔اسی روز میرے کام کے سلسلے میں ایک شخص گھر آیا اور تین لاکھ فرانک نقد دے کر کہنے لگا کہ میرا آرڈر بک کر لیں اور یہ رقم ایڈوانس کے طور پر رکھ لیں۔بقیہ کام مکمل ہو گا تو ادا کروں گا۔یوسف صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس روز سے میرا اللہ تعالیٰ پر تو کل بہت بڑھ گیا ہے۔خصوصاً مالی مشکلات تو بالکل ختم ہو گئی ہیں۔بنفورا (Banfora) ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک دوست سوا دو گو (Sawadogo)صاحب چار سال قبل احمدی ہوئے تھے اور آہستہ آہستہ اخلاص میں ترقی کی اور چندے ادا کرنے شروع کئے۔ایک روز بیان کرنے لگے کہ سب سے پہلے چندوں کے نظام میں شامل ہو جائیں کیونکہ اس کی بیشمار برکات ہیں اور اس کا ثبوت میری اپنی ذات ہے۔کیونکہ احمدیت میں داخل ہونے سے قبل اور چندوں کی ادائیگی سے قبل میں اکثر لوگوں سے قرض