خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 99

خطبات مسرور جلد نهم 99 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء گروہوں کے در میان گولیاں چلانے اور قتل و غارت کرنے سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے رحم کو جوش دلانے سے قائم ہونے والی خلافت ہے۔اور جو خلافت اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کی عنایت سے ملے گی تو وہ نہ صرف مسلم اللہ کے لئے محبت پیار کی ضمانت ہو گی بلکہ گل دنیا کے لئے امن کی ضمانت ہو گی۔حکومتوں کو اُن کے انصاف اور ایمانداری کی طرف توجہ دلائے گی۔عوام کو ایمانداری اور محنت سے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائے گی۔پس جماعتِ احمد یہ تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس تمام فساد کا جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے ایک ہی حل پیش کرتی ہے کہ خیر امت بننے کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر ، دنیا کے دل سے خوف دور کر کے اُس کے لئے امن ، پیار اور محبت کی ضمانت بن جاؤ۔خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار نے والے بن جاؤ۔اس یقین پر قائم ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ اب بھی جسے چاہے کلیم بنا سکتا ہے تاکہ خیر امت کا مقام ہمیشہ اپنی شان دکھا تار ہے۔یہ سب کچھ زمانے کے امام سے بڑنے سے ہو گا۔اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے مسلمانوں کی حالت بھی سنورے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :۔یہ عاجز بھی اسی کام کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا قرآن شریف کے احکام بہ وضاحت بیان کر دیوے“۔(ازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 103) پھر فرمایا: ” میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہر گز نہیں مرے گا۔وہ زندگی بخش باتیں جو میں کہتا ہوں اور وہ حکمت جو میرے منہ سے نکلتی ہے اگر کوئی اور بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لئے آپ حیات کا حکم رکھتی ہے دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی تو تمہارے پاس اس جرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اُس سر چشمہ سے انکار کیا جو آسمان پر کھولا گیاز مین پر اس کو کوئی بند نہیں کر سکتا۔سو تم مقابلہ کے لئے جلدی نہ کرو اور دیدہ و دانستہ اس الزام کے نیچے اپنے تئیں داخل نہ کر وجو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ - إِنَّ السَّيْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَبِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل:37) (یعنی جس بات کا تجھے علم نہیں ہے اُس کے پیچھے نہ چل۔یقیناً کان، آنکھ اور دل سب سے پوچھا جائے گا) فرمایا کہ ”بد ظنی اور بد گمانی میں حد سے زیادہ مت بڑھو ایسانہ ہو کہ تم اپنی باتوں سے پکڑے جاؤ۔(ازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 104) پھر فرماتے ہیں۔۔۔۔اے مسلمانو! اگر تم سچے دل سے حضرت خداوند تعالیٰ اور اس کے مقدس رسول علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہو اور نصرت الہی کے منتظر ہو تو یقینا سمجھو کہ نصرت کا وقت آگیا اور یہ کاروبار انسان کی طرف سے نہیں اور نہ کسی انسانی منصوبہ نے اس کی بنا ڈالی بلکہ یہ وہی صبح صادق ظہور پذیر ہو گئی ہے جس کی پاک نوشتوں میں پہلے