خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 98
خطبات مسرور جلد نهم 98 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء امن قائم کرنے کے لئے یقینا نظام خلافت ہی ہے جو صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔حکمرانوں اور عوام کے حقوق کی نشاندہی اور اس پر عمل کروانے کی طرف توجہ یقینا خلافت کے ذریعے ہی مؤثر طور پر دلوائی جاسکتی ہے۔یہ لکھنے والے نے بالکل صحیح لکھا ہے لیکن جو سوچ اس کے پیچھے ہے وہ غلط ہے۔جو طریق انہوں نے بتایا ہے کہ عوام اٹھ کھڑے ہو جائیں اور نظام خلافت کا قیام کر دیں، یہ بالکل غلط ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نظام خلافت سے وابستگی سے ہی اب مسلم اللہ کی بقا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا اس تنظیم نے مسلمانوں کی حیثیت منوانے اور اُن کو صحیح راستے پر چلانے کے لئے بہت صحیح حل بتایا ہے لیکن اس کا حصول عوام اور انسانوں کی کوششوں سے نہیں ہو سکتا۔کیا خلافتِ راشدہ انسانی کوششوں سے قائم ہوئی تھی۔باوجود انتہائی خوف اور بے بسی کے حالات کے اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دل پر تصرف کر کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لئے کھڑا کر دیا تھا۔پس خلافت خدا تعالیٰ کی عنایت ہے۔مومنین کے لئے ایک انعام ہے۔آنحضرت صلی اللہ تم نے اپنے بعد کچھ عرصہ تک خلافت راشدہ کے قائم ہونے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔اور اس کے بعد ہر آنے والا اگلا دور ظلم کا دور ہی بیان فرمایا تھا۔پھر ایک امید کی کرن دکھائی جو قرآنی پیشگوئی آخَرِيْنَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم ( الجمعة : 4) میں نظر آتی ہے اور اس کی وضاحت آنحضرت صلی ال ولم نے مسیح و مہدی کے ظہور سے فرمائی جو غیر عرب اور فارسی الاصل ہو گا۔جس کا مقام آنحضرت صلی علیکم کی غلامی اور مہر کے تحت غیر تشریعی نبوت کا مقام ہو گا۔پس اگر مسلمانوں نے خلافت کے قیام کی کوشش کرنی ہے تو اس رہنما اصول کو سامنے رکھتے ہوئے کریں۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔پھر وہ اس کو اُٹھالے گا اور خلافت علی منہاج النبوت قائم ہو گی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اُٹھالے گا۔پھر اُس کی تقدیر کے مطابق ایذارساں بادشاہت قائم ہو گی جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کارحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دور کو ختم کر دے گا۔اُس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر 6 صفحه 285 مسند النعمان بن بشير حديث 18596 عالم الكتب بيروت 1998ء) پس خلافت کے لئے اللہ تعالیٰ کے رحم نے جوش مارنا تھا نہ کہ حکومتوں کے خلاف مسلمانوں کے پُر جوش احتجاج سے خلافت قائم ہونی تھی۔کیا ہر ملک میں خلافت قائم کریں گے ؟ اگر کریں گے تو کس ایک فرقے کے ہاتھ پر تمام مسلمان اکٹھے ہوں گے۔نماز میں امامت تو ہر ایک فرقہ دوسرے کی قبول نہیں کرتا۔پس اس کا ایک ہی حل ہے کہ پہلے مسیح موعود کو مانیں اور پھر آپ علیہ السلام کے بعد آپ کی جاری خلافت کو مانیں۔یہ وہ خلافت ہے جو شدت پسندوں کا جواب شدت پسندی کے رویے دکھا کر قائم نہیں ہوئی۔مسلم امہ کے دو