خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 76
خطبات مسرور جلد نهم 76 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء بمطابق 18 تبلیغ 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: دو تین دن ہوئے مجھے ہمارے یہاں کے مشنری انچارج عطاء المجیب راشد صاحب نے لکھا کہ اس سال پیشگوئی مصلح موعود کے ایک سو پچیس سال پورے ہو رہے ہیں۔مجھے اُن کے خط کی طر ز سے یہ لگا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ میں اس موضوع پر ایک خطبہ دوں، گو کہ انہوں نے واضح طور پر تو نہیں لکھا تھا۔اس موضوع پر ہر سال جلسے بھی منعقد ہوتے ہیں۔دو سال پہلے میں ایک خطبہ بھی دے چکا ہوں۔گو کہ ایک خطبہ میں اس موضوع کا پوری طرح احاطہ نہیں ہو سکتا۔پہلے تو میں اس طرف مائل نہیں تھا لیکن پھر طبیعت اس طرف مائل ہوئی کہ یہ ایک عظیم پیشگوئی ہے جو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے۔اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت ملا لی یکم کی پیشگوئی ہے۔اس لئے اس کا تذکرہ ضروری ہے۔اور پھر اس لئے بھی کہ گو جماعتی طور پر جہاں آزادی ہے وہاں تو جلسے بھی ہو جاتے ہیں۔مختلف موضوع ہیں۔پیشگوئی کے مختلف پہلو ہیں۔اُن کو مختلف مقررین بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پاکستان میں تو ویسے ہی جلسوں پر پابندی ہے۔اُن کے لئے بھی یہ موضوع ایسا ہے کہ نئی نسل کے لئے بھی ضروری ہے۔نوجوانوں کو بھی اس بارے میں علم ہونا چاہئے۔نئے آنے والوں کو بھی علم ہونا چاہئے۔پھر صرف نئے آنے والوں کو ہی نہیں بلکہ انسان کی طبیعت میں جو اتار چڑھاؤ رہتا ہے اُس کی وجہ سے بعید نہیں کہ بعض بڑی عمر کے لوگ بھی اتنا زیادہ اس موضوع کو نہ جانتے ہوں۔اس پر غور نہ کیا ہو اور آج اُن کی طبیعت اس طرف مائل ہوئی ہو۔بہر حال اس وجہ سے یہ موضوع چاہے کچھ حد تک ہی ہو ، بیان کرنا ضروری ہے۔باتوں کو بار بار دہرائے جانے سے نئے ہوں یا پرانے ہوں، ان کے علم اور ایمان اور عرفان میں اضافہ ہوتا ہے۔پھر یہ بھی ہے کہ جماعت جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیزی سے نئے ملکوں میں ، نئی جگہوں پر پھیل رہی ہے۔وہاں جو مقررین ہیں یا جو معلمین مقرر ہیں، ان کو ہر بات کا اتنا علم نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو پیشگوئیاں ہیں ان کا نہ صحیح طرح سے علم ہے، نہ اتنی گہرائی میں جا کر بیان کر سکتے ہیں۔تو اس پہلو سے بھی