خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 58

خطبات مسرور جلد نهم 58 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء روایت میں یہ ہے کہ ابو لہب کی ہلاکت کے بارے میں سورۃ لہب کی پیشگوئی غزوہ بدر کے سات دن بعد پوری ہوئی، اور وہ طاعون جیسی بیماری السر سے ہلاک ہوا اور تین دن اس حال میں رہا کہ اس سے بو آنے لگی۔اس کے خاندان والوں نے ذلت سے ڈر کر ایک گڑھا کھود کر اس کو ایک لکڑی کے ساتھ دھکیل کر اس میں گرا دیا اور پھر اس کے اوپر پتھر پھینک کر اس گڑھے کو پُر کر دیا۔(روح المعانی جز 30 صفحه 687 تفسير سورة تبت زير آيت ما۔۔۔اغنى عنه ماله مطبوعه دار احياء التراث بیروت 2000ء) تو اللہ تعالیٰ نے اس توہین کا یہ بدلہ لیا۔اور ایک روایت تاریخ طبری کی یہ بھی ہے کہ اُس کو ایک ایسے پھوڑے میں مبتلا کیا جس کی وجہ سے وہ مر گیا۔اور اس کے دونوں بیٹوں نے دو یا تین راتوں تک اسے نہ دفنایا یہاں تک کہ لاش گھر میں سڑنے لگی۔بو آنے لگی اور پھر اس کو بُو سے ہی دفنا دیا گیا۔(تاريخ الطبرى جلد 3 صفحه 41 ثم دخلت السنة الثانية من الهجرة، ذكر واقعه بدر دارالفکر بیروت 2002ء) بہر حال انجام اُس کا بھی بُر اہو اور ساتھ اس کے بیٹے عتیبہ کا انجام بھی برا ہوا۔بہر حال میں یہ کہہ رہا ہوں کہ غلطی کی وجہ سے ایک کی بجائے دو( ابو لہب اور عتیبہ کے بارہ میں) روایتیں مل گئی ہیں۔عتیبہ کا نکاح آنحضرت صلی علیکم کی صاحبزادی اُم کلثوم سے ہو ا تھا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ وہ سفر شام پر جانے سے پہلے آنحضرت کی ایذارسانی کی غرض سے آپ کے پاس گیا اور کہا میں سورۃ نجم کا انکاری ہوں پھر ازراہ تحقیر و توہین آپ کے سامنے تھوک کر آپ کی صاحبزادی کو طلاق دی۔تب رسول اللہ صلی یکم نے خود کچھ نہیں کہا بلکہ اس کے خلاف بد دعادی، اور اسی سفر میں وہ بھیڑیئے یا شیر کے پھاڑنے سے ہلاک ہو گیا۔(روح المعانی جز 30 صفحه 687 تفسير سورة تبت زير آيت ما اغنى عنه ماله مطبوعه دار احياء التراث بيروت 2000ء) بہر حال یہ روایت تو اور بھی جگہوں سے مل رہی ہے۔خطبہ کے علاوہ تیسری بات جو ہے وہ یہ ہے کہ ابھی نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ پڑھاؤں گا جو مکرم رشید احمد بٹ صاحب ابن مکرم میاں محمد صاحب مرحوم لاہور کا ہے۔ان کی 18 اکتوبر 2010ء کو اکہتر سال کی عمر میں بعارضہ قلب وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ 28 مئی 2010ء کو دارالذکر میں تھے اور ان کے بھی ٹانگ پر گولی لگی تھی۔زخمی ہوئے تھے۔ریسکیو والے آپ کو ڈسٹرکٹ ہسپتال میں چھوڑ آئے جہاں وہ ایک روز داخل رہے۔ان کا خون زیادہ بہہ گیا تھا، بہت زیادہ کمزوری ہو گئی تھی، اس وجہ سے دل پر بھی اس کا اثر پڑا۔آپ کی جماعتی خدمات یہ ہیں کہ سیکر ٹری رشتہ ناطہ سیکر ٹری اصلاح و ارشاد، زعیم انصار اللہ رہے۔نہایت نیک، تہجد گزار، صاحب رؤیا و کشوف اور خدمتِ خلق اور دعوت الی اللہ کا بھر پور جذبہ رکھنے والے مخلص اور فدائی احمدی تھے۔آپ کو ہو میو پیتھی سے بھی لگاؤ تھا۔اپنے گھر میں میڈیکل کیمپ لگا کر لوگوں کو فیض پہنچایا کرتے تھے۔اور ہزاروں لوگوں نے آپ سے فیض پایا۔خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔اپنی ہر کامیابی کو خلیفہ وقت کی دعاؤں کی طرف منسوب کر دیا کرتے تھے۔