خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 433
433 66 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم کونسی ہدایت ہے جو ایک مومن کو طلب کرنی چاہئے۔اور اُس کو اپنانا چاہئے۔فرمایا سب سے پہلی چیز (1) قرآنِ شریف جو کتاب اللہ ہے ، جس سے بڑھ کر ہمارے پاس کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے۔وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے۔دوسری سنت (ہے)۔۔۔(اور ) سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تواتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآنِ شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی۔یا بہ تبدیلی الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآنِ شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادت اللہ یہی ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کے لئے لاتے ہیں تو اپنے عملی فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں۔“ ( اُن کے عمل جو ہیں خدا تعالیٰ کے حکموں کی تفسیر ہوتی ہے )۔” تا اس قول کا سمجھنا لوگوں پر مشتبہ نہ رہے ( واضح ہو جائے ہر چیز ” اور اس قول پر آپ بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کراتے ہیں“ ( اور تیسری چیز) ”تیسر اذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبا ڈیڑھ سو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعوں سے جمع کئے گئے“۔( ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 209- 210 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 242،241)۔(حدیثیں جو ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ڈیڑھ سو سال بعد ، مختلف راویوں کے ذریعے سے جمع کی گئی تھیں اُس کی تیسری حیثیت ہے )۔پس ان میں سے وہ جو قرآن اور سنت سے نہیں ٹکراتیں وہی صحیح احادیث ہیں اور ایک مومن کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اہل حدیث کی طرح ہم سنت اور حدیث کو ایک چیز نہیں سمجھتے۔تو بہر حال یہ ایک تفصیلی لائحہ عمل ہے جو ایک مومن کی ہدایت کے لئے موجود ہے۔جب بھی ہدایت کی دعا ایک مومن مانگے تو ان چیزوں کو سامنے رکھے اور اُن کی تلاش میں رہے اور یہی پھر حقیقی ہدایت کی طرف رہنمائی کرے گی اور بندے کا خد اتعالیٰ سے تعلق بھی پختہ ہو گا۔بعض لوگ پیروں فقیروں کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔بعض دفعہ مجھے شکایتیں ملتی ہیں کہ غیروں کے زیر اثر بعض احمدی بھی پیروں سے ، دوسروں سے ، دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے اور اپنی دعاؤں کی طرف کم توجہ ہوتی ہے یا جادو ٹونے پر یقین ہوتا ہے اس لئے اُس کو تڑوانے کے لئے دوسروں کے پاس جاتے ہیں اور بعض دفعہ غیروں کے پاس بھی چلے جاتے ہیں۔بعض لوگوں میں جہالت اس حد تک ہے اور اپنے عملوں کی طرف توجہ نہیں ہے۔دعاؤں کی طرف توجہ نہیں ہے۔یہ چیز انتہائی غلط ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ شکر ہے کہ چند ایک کے علاوہ شاید احمدیوں میں ایسے لوگ نہ ہوں ورنہ غیروں میں تو شرک کی انتہا ہوئی ہوئی ہے اور پھر یہ لوگ اپنے آپ کو مومن اور مسلمان بھی سمجھتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے“۔( یعنی اسلام کا نام استقامت رکھا ہے) ”جیسا کہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - (البقرة: 7،6) یعنی ہمیں استقامت کی راہ