خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 432
432 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم وسائل ہیں وہ حاصل کئے جائیں اور جن راہوں پر چلنے سے وہ مطلب مل سکتا ہے وہ راہیں اختیار کی جائیں اور جب انسان صراط مستقیم پر ٹھیک ٹھیک قدم مارے اور جو حصول مطلب کی راہیں ہیں ان پر چلنا اختیار کرے تو پھر مطلب خود بخود حاصل ہو جاتا ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ان راہوں کے چھوڑ دینے سے جو کسی مطلب کے حصول کے لئے بطور وسائل کے ہیں یونہی مطلب حاصل ہو جائے بلکہ قدیم سے یہی قانون قدرت بندھا ہوا چلا آتا ہے کہ ہر یک مقصد کے حصول کے لئے ایک مقرری طریقہ ہے جب تک انسان اس طریقہ مقررہ پر قدم نہیں مار تاتب تک وہ امر اس کو حاصل نہیں ہو تا۔پس وہ شے جس کو محنت اور کوشش اور دعا اور تضرع سے حاصل کرنا چاہئے صراط مستقیم ہے۔جو شخص صراط مستقیم کی طلب میں کوشش نہیں کرتا اور نہ اس کی کچھ پر واہ رکھتا ہے وہ خدا کے نزدیک ایک سکج رو آدمی ہے اور اگر وہ خدا سے بہشت اور عالم ثانی کی راحتوں کا طالب ہو تو حکمت الہی اسے یہی جواب دیتی ہے کہ اے نادان اول صراط مستقیم کو طلب کر۔پھر یہ سب کچھ تجھے آسانی سے مل جائے گا۔سو سب دعاؤں سے مقدم دعا جس کی طالب حق کو اشد ضرورت ہے طلب صراط مستقیم ہے“۔( براہین احمدیہ۔حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد اول حاشیہ نمبر 11 صفحہ 532 تا 537 ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 235،234) پھر صراطِ مستقیم کی روح اور حقیقت کو بیان فرماتے ہوئے اور یہ کہ ایک مومن کو صراطِ مستقیم کے کن معیاروں کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ : صراط مستقیم کی حقیقت جو دین قویم کے مد نظر ہے وہ یہ ہے کہ جب بندہ اپنے فضل و احسان والے خدا سے محبت کرنے لگے، اُس کی رضا پر راضی رہے۔اپنی روح اور دل اُس کے سپر د کر دے اور اپنے آپ کو اُس خدا کو سونپ دے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اس کے علاوہ کسی اور سے دعانہ کرے۔اسی سے خاص محبت رکھے۔اُسی سے مناجات کرے اور اُسی سے رحمت و شفقت مانگے۔اپنی بے ہوشی سے ہوش میں آجائے۔اپنی چال سیدھی کرے اور خدائے رحمان سے ڈرے۔محبت الہی اُس کے رگ وریشہ میں سرایت کر جائے۔اللہ تعالیٰ اُس کی مدد کرے اور اُس کے یقین اور ایمان کو پختہ کرے۔تب بندہ اپنے پورے دل، اپنی خواہشات، اپنی عقل، اپنے اعضاء اور اپنی زمین اور کھیتی باڑی سب کے ساتھ کلی طور پر اپنے رب کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس کے سوا سب سے منہ موڑ لیتا ہے۔اُس کی نگاہ میں اپنے رب کے سوا اور کچھ بھی باقی نہیں رہ جاتا۔وہ اپنے محبوب ہی کی پیروی کرتا ( ترجمه عربی عبارت کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 133-134۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 238، 239) پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا جو ایک حقیقی مومن کو کرنی چاہئے اُس سے دنیا بھی ملتی ہے اور دین بھی مل جاتا ہے۔فرمایا کہ اس کے لئے ایک کوشش کی ضرورت ہے۔اپنی بیہوشیوں سے نکلنا پڑے گا۔دین سے جو غفلت ہے یہ بیہوشی کی حالت ہے اس سے نکلو اور اس کی تلاش کرو۔ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو۔جب یہ چیز ہو گی تو پھر تمہاری دنیا بھی دین بن جائے گی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر کام ہو رہا ہو گا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اسلامی ہدایت پر قائم رہنے کے لئے تین چیزیں ہیں جن کا ایک مسلمان کو خیال رکھنا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ہدایت مشکل ہے۔یہی تین باتیں ہیں جو اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ