خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 403 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 403

403 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم تو خاتم الانبیاء تھے۔آپ کا زمانہ تو تا قیامت قائم رہنے والا زمانہ ہے۔آپ کی اُمت تو تا قیامت فتحیاب رہنے والی امت ہے اور آپ مسلم امت کے نبی ہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس انقلاب کے جاری رہنے کے لئے آپ کو خبر دی تھی کہ آئندہ زمانے میں ایک آدمی آئے گا۔اس بات کو کھولتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر آگے فرماتے ہیں : ”پھر اللہ پاک ذات نے اپنے قول رب العالمین میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اُسی کی حمد ہوتی ہے۔اور پھر حمد کرنے والے ہمیشہ اُس کی حمد میں لگے رہتے ہیں اور اپنی یادِ خدا میں محو رہتے ہیں۔اور کوئی چیز ایسی نہیں مگر ہر وقت اُس کی تسبیح و تحمید کرتی رہتی ہے۔اور جب اُس کا کوئی بندہ اپنی خواہشات کا چولہ اُتار پھینکتا ہے، اپنے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اور اُس کی راہوں اور اس کی عبادات میں فتا ہو جاتا ہے۔اپنے اس رب کو پہچان لیتا ہے جس نے اپنی عنایات سے اُس کی پرورش کی۔وہ اپنے تمام اوقات میں اُس کی حمد کرتا ہے اور اپنے پورے دل بلکہ اپنے ( وجود کے ) تمام ذرات سے اُس سے محبت کرتا ہے تو اس وقت وہ شخص عالمین میں سے ایک عالم بن جاتا ہے۔اسی لئے اَعْلَمُ الْعَالَمِین کی کتاب ( قرآن کریم) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام اُمت رکھا گیا۔اور عالمین سے ایک عالم وہ بھی ہے جس میں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے گئے۔ایک اور عالم وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے طالبوں پر رحم کر کے آخری زمانے میں مومنوں کے ایک دوسرے گروہ کو پیدا کرے گا۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَ الأخرة (القصص:71) میں اشارہ فرمایا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو احمد وں کا ذکر فرما کر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ان میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفی اور رسولِ مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور دوسرا احمد احمد آخر الزمان ہے جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی رکھا گیا ہے۔یہ نکتہ میں نے خدا تعالیٰ کے قول الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سے اخذ کیا ہے۔پس ہر غور و فکر کرنے والے کو غور کرنا چاہئے۔“ (اعجاز المسیح روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحه 137 تا139) (ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 97،96) یہ دونوں حوالے آپ کی عربی کتاب اعجاز المسیح کے ہیں۔پس عبد کامل کی کامل پیروی اور اُس کے عشق و محبت کی انتہا کی وجہ سے اپنی خواہشات کا چولہ اُتار پھینکنے کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی ذات میں فنا ہو جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آخری زمانہ میں مسیح موعود کو مبعوث فرمایا جنہوں نے پھر ہمیں اللہ تعالیٰ سے عشق و وفا اور عبودیت کے راستے دکھائے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے وہ انقلاب پیدا فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے منکر اور مشرک باخدا انسان بن گئے اور پھر انہوں نے دنیا کو بھی یہ پیغام دے کر قوموں اور ملکوں کو خدائے واحد و یگانہ کا عبادت گزار بنادیا ہے لیکن پھر خدا تعالیٰ کو بھولنے اور دنیا داری میں پڑنے کی وجہ سے اپنے مقصد پیدائش کو بھول کر اللہ تعالیٰ کے انعامات سے محروم کر دیئے گئے۔بیشک اُس اندھیرے دور میں بھی کہیں کہیں اس روحانی نظام کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لئے مقامی طور